بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر وسائی کے اسکول میں ٹیچر نے لیٹ آنے پر 13 سالہ طالبہ کو سخت سزا دی جس سے اس کی طبعیت بگڑ گئی اور دل کا دورہ پڑنے سے بچی کی موت واقع ہو گئی۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق مقامی پولیس نے طالبہ کو سزا دینے والی اسکول کی ٹیچر کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق ٹیچر ممتا یادو نے بچی کو صرف 10 منٹ لیٹ اسکول آنے پر بیگ سمیت 100 اٹھک بیٹھکیں کرائیں، جس کے بعد بچی کی طبیعت بگڑ گئی اور وہ جاں بہر نہ ہو سکی۔
بتایا گیا کہ 8 نومبر کو ٹیچر نے بچی گاؤد سمیت چند دیگر بچوں کو تاخیر سے آنے پر سخت سزا دی۔ گھر پہنچنے کے بعد بچی کی طبیعت خراب ہوئی، اسے پہلے وسائی کے اسپتال لے جایا گیا اور پھر بائیکلہ کے جے جے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایک ہفتے بعد اس نے دم توڑ دیا۔
زیادتی کے بعد9سالہ بچی کا قتل، مجرمان کودو بار سزائے موت کا حکم
پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ٹیچر کو صرف بڑی کلاسز تک پڑھانے کا اختیار تھا مگر وہ قوانین کے برعکس جاتے ہوئے 8 ویں کلاس کو بھی پڑھا رہی تھی۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ اسکول کے پاس مناسب سہولیات موجود نہیں اور وہ ایک جھونپڑی نما عمارت میں چل رہا ہے۔ متعلقہ حکام نے پہلے اس عمارت کے دروازے پر ’غیر قانونی ڈھانچہ‘ کا انتباہی بورڈ بھی لگایا تھا، مگر الزام ہے کہ اسکول انتظامیہ نے اسے چھپا دیا۔

