آٹا، ٹماٹر، پیاز، لہسن، پیٹرول اور ڈیزل سمیت 16 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی

انڈے، گوشت، مرغی، سبزیوں کی قیمتیں 76 سالہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

گزشتہ ہفتے گندم کا آٹا، ٹماٹر، پیاز، لہسن، پیٹرول اور ڈیزل سمیت 16 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ مہنگائی 10.1 فیصد کی کمی کے ساتھ سالانہ بنیاد پر 21.22 فیصد کی سطح پر آگئی۔

وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی کے ہفتہ وار اعدادوشمار جاری کر دیئے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے 20 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 16 کے دام کم ہوگئے۔

اس دوران 15 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے مہنگائی میں 1.06 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

سالانہ بنیاد پر مہنگائی 21.22 فیصد کی سطح پر آگئی۔ ٹماٹر، پیاز، لہسن، گندم آٹا، کیلے، چاول، سرخ مرچ، دال مسور سستی ہوئی۔ گزشتہ ہفتے پیٹرول، ڈیزل، ایل پی جی کی قیمتوں میں بھی کمی آئی۔ البتہ آلو، بیف، مٹن، دال چنا، انڈے، چکن، کپڑے اور لکڑی کے نرخ بڑھ گئے۔

رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے میں ٹماٹر کی فی کلو قیمت میں 27 روپے کی کمی آئی۔ پیاز کی فی کلو قیمت 27 روپے سے زیادہ کی کمی آئی۔ ایک ہفتے میں لہسن فی کلو 46 روپے تک سستا ہوا۔

گزشتہ ہفتے آلو کی فی کلو قیمت میں 1 روپے 28 پیسے کا اضافہ ہوا۔ بیف 10 روپے تک اور مٹن 20 روپے تک فی کلو مہنگا ہوا۔ دال چنا فی کلو 3 روپے تک اور انڈے فی درجن 2 روپے تک مہنگے ہوئے۔

واحد گندم اسکینڈل جس میں آٹا مہنگا ہونے کے بجائے سستا ہوا، انوار الحق کاکڑ

سالانہ بنیاد پر قیمتوں کا موازنہ کریں تو گزشتہ سال کی نسبت پیاز 88 فیصد،سرخ مرچ 70 فیصد تک مہنگی ہوئی۔ ایک سال میں لہسن 62 فیصد، ٹماٹر 36 فیصد، نمک 33 فیصد مہنگا ہوا۔ سالانہ بنیاد پر بیف 24 فیصد، دال ماش 22 فیصد، چینی 21 فیصد مہنگی ہوئی۔

ایک سال میں گیس چارجز 570 فیصد تک بڑھ گئے۔ گزشتہ سال کی نسبت گندم کا آٹا، چکن، گھی،کوکنگ آئل، ایل پی جی سستی ہوئی۔


ٹیگز :
متعلقہ خبریں