پی کے 91 ،22 اوراین اے 8 میں الیکشن ملتوی

Election

پی کے 91 کوہاٹ میں امیدوار کے انتقال اور این اے 8،پی کے 22 باجوڑ میں امیدوار کے قتل کے باعث انتخابات ملتوی کردئیے گئے ہیں۔

31جنوری سے 4فروری تک پنجاب میں بارشوں کاامکان

آراوکا کہنا ہے کہ پی کے91 سے عصمت اللہ خٹک 30 جنوری کو انتقال کرگئے تھے ،عرفان اللہ نے انتخابات ملتوی ہونے کا نوٹس جاری کردیا۔

این اے 8 اور پی کے 22 باجوڑ میں بھی  الیکشن ملتوی کردئیے گئے ہیں ،نوٹیفکیشن کے مطابق آزاد امیدوار ریحان خان زیب کے قتل کے باعث الیکشن ملتوی کیے گئے

ملک بھر سے 40 سے زائد درگاہوں اور خانقاہوں کے سجادہ نشینوں نے پیپلز پارٹی کی حمایت کا اعلان کردیا

دوسری جانب  الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیپرز کی کمی کی صورت میں کچھ حلقوں میں انتخابات موخر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

الیکشن کمیشن میں بیلٹ پیپر کی دوبارہ چھپائی کے حوالے سے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ جن حلقوں میں بیلٹ پیپر کی دوبارہ چھپائی کرانا پڑ رہی ہے، وہاں پر چھپائی دیگر حلقوں کے بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے مکمل ہونے کے بعد کی جائے گی تاہم اس کا دارومدار خصوصی سکیورٹی کاغذ اور وقت کی دستیابی کے ساتھ پرنٹنگ پریسوں کی استعاعت پر منحصر ہو گا۔

برٹش ایشین ٹرسٹ نے  راحت فتح علی خان  سے راہیں جدا کرلیں

ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق اگر خصوصی سکیورٹی کاغذ مطلوبہ مقدار میں دستیاب نہ ہوا تو کمیشن کے پاس ان حلقوں میں انتخابات موخر کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہے گا۔

اجلاس میں اس امر پر غور کیا گیا کہ کہ ایسے وقت کہ جب انتخابات کے لیے بیلٹ پیپرز کی طباعت مکمل کی جا رہی ہے ، کچھ حلقوں میں دوبارہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کرانا پڑ رہی ہے جس کے لیے اس مرحلہ پر درکار خصوصی سکیورٹی کاغذ کی دستیابی اور بروقت چھپائی کی تکمیل ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

ڈاکٹر گوہر اعجاز کو وزیر اوورسیز کا اضافی چارج بھی دے دیا گیا

اجلاس میں بتایا گیا کہ جہاں 2018 کے عام انتخابات میں بیلٹ پیپرز کی طباعت کیلئے 800 ٹن خصوصی سکیورٹی کاغذ استعمال ہوا تھا، وہاں 2024ء میں 2400 ٹن خصوصی سیکیورٹی کاغذ کی ضرورت پڑی تاہم کمیشن نے صورتحال کی سنگینی کے باعث بیلٹ پیپر کے سائز کو کم کرنے کا فیصلہ کیا جس سے سکیورٹی کاغذ کی ضرورت 2170 ٹن رہ گئی تاہم یہ تعداد محض ایک دفعہ بیلٹ پیپر کی چھپائی کیلئے بمشکل کافی ہے۔


متعلقہ خبریں