حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات کا پہلا دور ختم


حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مذاکراتی ٹیم کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ختم ہو گیا۔

تحریک انصاف کی جانب سے شاہ محمود قریشی،فواد چودھری اور بیرسٹرعلی ظفر جب کہ حکومتی وفد میں اسحاق ڈار،اعظم نذیرتارڑ،سعدرفیق،یوسف رضا گیلانی،نوید قمراورکشور زہرا شامل ہوئے۔

مذاکرات کے بعد بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ طے ہے کہ آئین میں رہ کر معاملات کو حل کرنا ہے، کل 3 بجے ہماری اگلی نشست ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنی قیادت اور وہ اپنی لیڈرشپ سے بات کریں گے، جو بھی ڈیمانڈ ہے پی ٹی آئی کل سامنے رکھے گی ،ہم تمام پارٹیوں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔

اس موقع پر پی ٹی آئی کے نائب چیرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج مذاکرات کی پہلی نشست ہوئی جو 2گھنٹے جاری رہی ،ہم سیاسی مسائل کا حل بات چیت سے نکالنے پر یقین رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ جو بھی حل تجویز کریں گے وہ آئین کے مطابق ہو گا،پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ ملک کو اس ہیجانی کیفیت سے نکالا جائے ، کل دوسری نشست3 بجے اسی مقام پر ہے ،حکومتی مذاکراتی ٹیم نے اپنے اتحادیوں سے مشاورت کا وقت مانگا ہے۔

دوسری جانب بجمعیت العلمائے اسلام (ف) نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ کسی بھی فورم پر مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے لیا

جے یو آئی (ف) نے منعقدہ اجلاس میں کیے جانے والے فیصلے کے تحت پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرت کرنے والی کسی بھی مذاکراتی ٹیم کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس حوالے سے ذرائع نے بتایا ہے کہ جے یو آئی (ف) نے منعقدہ اجلاس میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ پی ٹی آئی کو تسلیم نہیں کرتے ہیں نہ باہر اور نہ پارلیمان کے اندر، اس لیے پی ٹی آئی سے کہیں پر بھی مذاکرات نہیں ہوں گے۔

گھر بھجوانا چاہتے ہیں تو تیار ہیں، ایوان کا مان نہیں توڑوں گا، ساتھ کھڑا رہوں گا، وزیر اعظم

ہم نیوز نے ذرائع سے بتایا ہے کہ جے یو آئی (ف) نے فیصلہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ اور آئین پاکستان کے دفاع میں جلسے منعقد کیے جائیں گے۔


متعلقہ خبریں