حادثے کے بعد اپ اور ڈاؤن ٹریک سروس بند ہو گئی، ریلوے حکام
حادثہ پڈعیدن کے قریب پیش آیا، کئی فٹ تک پٹڑی اکھڑ گئی ،اپ اور ڈاؤن ٹریک بلاک ہوگیا،ریلیف ٹرین پہنچ گئی ، امدادی سرگرمیاں جاری
حادثہ شمالی شہر ٹیورن میں پیش آیا ، ہلاک ہونیوالوں کی باقیات 300 میٹر تک بکھر گئیں
پہلا بڑا ٹرین حادثہ 1953ء میں جھمپیر کے قریب ہوا جس میں 200 افراد لقمہ اجل بنے
اپ ٹریک کی بحالی کا کام جاری ، حادثے کی وجہ معلوم نہ ہو سکی
جی او سی 18 ڈویژن خود ریسکیو آپرشن کی براہ راست نگرانی کر رہے ہیں
جاں بحق ہونے والے شخص کی لاش کوہسپتال منتقل کردیا گیا، پولیس
ملت اور سرسید ایکسپریس کے درمیان ہونے والے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 4o افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے
صفدرآباد اسٹیشن پر آنے والی ٹرین عملے کی غفلت و کوتاہی کے سبب بند راستے والی پٹڑی پر چلی گئی
اگست دوہزار اٹھارہ سے اب تک ٹرینوں کو آتشزدگی اور دیگر نوعیت کے 23 سے زائد حادثات پیش آچکے ہیں۔
بھکاری کے گھر میں موجود سکوں کو گننے میں پولیس کو آٹھ گھنٹے کا وقت لگا۔
پاکستان میں ریلوے ٹریک پر1875 مقامات پر کوئی پھاٹک نہیں ہے جو حادثات میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں
اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے بھارتی شہر امرتسر میں ٹرین حادثے کے نتیجے میں 60 سے زائد افراد…












