حملوں میں ایران کے انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے ، ایک اور منصوبہ آبنائے ہرمز کے ایک حصے پر قبضہ کرنے کا بھی ہے تاکہ اسے بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھولا جا سکے۔
امریکی فوجی حکام آج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بریفنگ دیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا نیا نقشہ بھی شیئر کردیا ، جس میں آبنائے ہرمز کو آبنائے ٹرمپ کا نام دیا گیا ہے۔
THU APR 30 2026 | 04:27 PM
ایران خلیج فارس میں نیا سیکیورٹی نظام تشکیل دیگا، سپریم لیڈر
غیر ملکی افواج کو خطے سے نکلنا ہوگا، ایران اپنی جوہری و میزائل صلاحیتوں کا ہر صورت تحفظ کریگا، مجتبیٰ خامنہ ای
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران اور خلیج فارس کے ممالک کی تقدیر مشترک ہے اور خطے کے تمام ممالک ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے جہاں علاقائی تعاون کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ایران خطے میں آبی راستوں کے غلط استعمال اور بیرونی طاقتوں کی زیادتیوں کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے گا اور خلیجی خطے کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ خلیج فارس کا مستقبل امریکہ کے بغیر ہوگا اور خطہ اپنی خودمختاری کے ساتھ عوام کی خوشحالی کی طرف آگے بڑھے گا۔
سپریم لیڈر نے کہا کہ آبنائے ہرمز ماضی میں عالمی طاقتوں کی لالچ کا مرکز رہی ہے اور مختلف ادوار میں بیرونی قوتیں اس خطے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتی رہی ہیں تاہم ایران نے ہر مشکل وقت میں ثابت قدمی اور جرات کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی کی خرابی کی بنیادی وجہ امریکی فوجی موجودگی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس کے ممالک میں قائم امریکی اڈے عدم استحکام کو بڑھا رہے ہیں۔
ان کے مطابق یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ غیر ملکی افواج کی موجودگی خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہے اور حتیٰ کہ امریکی اڈے اپنی حفاظت کی مکمل صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے مزید کہا کہ ایران اپنی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کی سختی سے حفاظت کرے گا کیونکہ ایرانی عوام انہیں قومی سرمایہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران ان دفاعی صلاحیتوں کو اپنی زمینی، فضائی اور بحری سرحدوں کی طرح محفوظ رکھے گا اور کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
THU APR 30 2026 | 01:07 PM
دشمن ممالک کو آبنائے ہرمز میں داخل نہیں ہونے دیں گے یہ ہماری قومی مزاحمت کی علامت ہے، ایرانی صدر
امریکا اور اسرائیل خطے میں غیر ضروری مداخلت کرکے امن کو نقصان پہنچا رہی ہیں ، مسعود پزشکیان
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران دشمن ممالک کو اس آبی راستے میں داخل نہیں ہونے دے گا،آبنائے ہرمز ایرانی قوم کی مزاحمت کی علامت ہے۔
خلیج فارس کے قومی دن کے موقع پر ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی یا عدم استحکام کی مکمل ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔ یہ طاقتیں خطے میں غیر ضروری مداخلت کرکے امن کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
صدر پزشکیان نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز صرف ایک تجارتی گزرگاہ نہیں بلکہ ایرانی قوم کی مزاحمت، خودمختاری اور قومی وقار کی علامت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس آبی گزرگاہ کی حفاظت ایران کے لیے انتہائی قومی اہمیت کی حامل ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ایران اپنی سرحدوں اور اسٹریٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا۔
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے امریکا نیا عالمی اتحاد بنانے کے لیے سرگرم ہو گیا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں امریکی سفارتخانوں کو ہدایات جاری کر دی ہیں ،امریکی میڈیا کے مطابق ہدایات میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ ممالک کو ایک نئے معاہدے کیلیے راغب کریں۔
اس نئے معاہدے کا نام میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ رکھا گیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ چند ہفتے قبل دعویٰ کر چکے ہیں کہ ہرمز مکمل طور پر کھلی اور کاروبار کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی طیارہ بردار جہاز جیرالڈ فورڈ بھی جلد مشرق وسطیٰ سے نکل جائے گا ، بحری بیڑا مرمت کے لیے مشرق وسطیٰ سے باہر لے جایا جا رہا ہے۔
WED APR 29 2026 | 09:40 PM
ٹرمپ کا ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان
ایران کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،امریکی صدر
سعودی عرب کے لیے تیل لے جانے والا جاپانی آئل ٹینکر حساس سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزر گیا، جسے عالمی توانائی ترسیل کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاناما کے پرچم تلے چلنے والا یہ آئل ٹینکر تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل لے کرسعودی عرب کی جانب رواں دواں تھا۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل ترسیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے، خطے میں کشیدگی کے باعث اس راستے سے گزرنے والے بحری جہازوں پر عالمی سطح پرگہری نظررکھی جاتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ نہیں بتایا کہ ان سے ایران کے کون سے حکام نے کب، کہاں اور کس طرح رابطہ کیا تھا ،تاحال ایرانی حکام کی جانب سے اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ادھر امریکی میڈیا نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری کھولنے اور جوہری پروگرام پر بعد میں بات کرنے کی ایرانی تجویز صدر ٹرمپ کے سامنے آئی لیکن وہ اسے قبول کرنے کے حق میں نہیں۔
TUE APR 28 2026 | 10:42 PM
جنگ ختم نہیں ہوئی، افواج ہر وقت تیار ہے، ترجمان ایرانی مسلح افواج
دوبارہ جنگ کی صورت میں فیصلہ کن جواب دینگے، نئے اہداف کا تعین کیا جاچکا ہے، بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا
ایران کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے کہا ہے کہ ملک کی افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور موجودہ صورتحال کو جنگ کے خاتمے کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ میدان میں وقتی خاموشی یا جنگ بندی جیسی صورتحال پیدا ہوئی، تاہم ایران نے امریکا اور دیگر دشمنوں پر عدم اعتماد کے باعث اپنی جنگی تیاریوں کو برقرار رکھا ہے اور نئے اہداف کا تعین بھی کر لیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق جنگ سے قبل انٹیلیجنس جائزوں کی بنیاد پر تمام فوجی یونٹس کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا تھا۔ انہوں نے اصفہان میں پیش آنے والے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دشمن کی دراندازی کی کوشش کے دوران ایرانی زمینی افواج نے فوری کارروائی کرتے ہوئے امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دشمن کی کارروائی ناکام ہو گئی۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ جنگ کے دوران ایران کے قومی فضائی دفاعی مرکز کے تحت کام کرنے والے یونٹس نے 170 سے زائد دشمن ڈرونز اور 16 لڑاکا طیاروں کو مار گرایا۔ اس کے علاوہ ایرانی فضائیہ نے ابتدائی مرحلے میں عراق، کویت اور قطر میں دشمن کے اڈوں کو بھی نشانہ بنایا۔
ترجمان نے ایک امریکی میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی فضائیہ کے ایک ایف-5 طیارے نے مختلف دفاعی حصار عبور کرتے ہوئے ایک امریکی اڈے کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی بحریہ نے نیول کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے خطے اور اسرائیل میں اہداف کو نشانہ بنایا اور امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن کو ایرانی ساحل کے قریب آنے سے روک دیا گیا۔
TUE APR 28 2026 | 09:24 PM
برطانیہ نے لندن میں تعینات ایرانی سفیر کو طلب کر لیا
سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز تبصروں کے معاملے پر طلبی، برطانوی دفتر خارجہ کی سفارتی آداب کی پابندی پر زور
برطانیہ نے لندن میں تعینات ایرانی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے وضاحت طلب کی ہے۔
برطانوی دفتر خارجہ کے مطابق یہ اقدام سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے اشتعال انگیز تبصروں کے جواب میں کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق برطانوی حکام نے ایرانی سفیر سے ان بیانات اور آن لائن سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا جو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ برطانیہ آزادی اظہار کی حمایت کرتا ہے تاہم کسی بھی قسم کے اشتعال انگیز یا کشیدہ ماحول پیدا کرنے والے بیانات کو سفارتی آداب کے منافی سمجھا جاتا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ملاقات میں معاملے کی نوعیت اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچاؤ کے اقدامات پر بھی بات چیت کی گئی۔
TUE APR 28 2026 | 01:41 PM
ایران کا دفاعی صلاحیتیں ایشیائی ممالک کے ساتھ شیئر کرنے کا اعلان
ایران دیگر ممالک کے ساتھ امریکا کے خلاف جنگ کے تجربات بھی شیئر کرنے کو تیار ہے، ایرانی نائب وزیر دفاع
ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتیں ایشیا کے آزاد ممالک، خصوصاً شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔
ایرانی نائب وزیر دفاع رضا طلائی نِک نے کرغزستان کے دارالحکومت میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے دفاع کے اجلاس کے دوران کہا کہ ایران دیگر ممالک کے ساتھ امریکا کے خلاف جنگ کے تجربات بھی شیئر کرنے کو تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگ میں ایران نے اپنے دفاعی نظام کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا، جس میں ڈرونز اور میزائل حملے شامل تھے، جبکہ فضائی حدود میں امریکی ڈرونز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
واضح رہے کہ ایران نے فروری کے آخر سے اپریل کے اوائل تک امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ایک شدید تنازع کا سامنا کیا، جو بعد ازاں جنگ بندی پر ختم ہوا، تاہم تنازع کے مستقل حل کے لیے سفارتی کوششیں تاحال تعطل کا شکار ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں روس اور بیلاروس کے دفاعی حکام کے ساتھ بھی ملاقاتیں ہوئی ہیں، جن میں باہمی تعاون جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ بیان خطے میں دفاعی تعاون کے نئے امکانات کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم اس کے علاقائی سلامتی پر اثرات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہوگا۔