ایران کی خبر رساں ایجنسی آئی ایس این اے کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔
خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت کا سلسلہ بدستور قائم ہے، دونوں فریق اس وقت پیغامات اور مجوزہ مسودات کا تبادلہ کر رہے ہیں، تاکہ کسی معاہدے کے لیے ایک باضابطہ فریم ورک تیار کیا جا سکے۔
اس سے قبل ایک ایرانی عہدیدار نے الجزیرہ کو بتایا تھا کہ مذاکرات کار “بہت قریب” پہنچ چکے ہیں اور ایک مسودہ معاہدے پر کام جاری ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ معاہدے کیلیے کچھ اچھے آثار موجود ہیں۔ پاکستانی حکام آج تہران کا سفر کریں گے، امید ہے کہ اس سے اس معاملے کو مزید آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔
FRI MAY 22 2026 | 09:48 AM
ایران کا امریکہ سے تمام محاذوں پر جنگ بندی اور منجمد اثاثوں کی واپسی کا مطالبہ
ایران کے سپریم لیڈر نے بھی یورینیم بیرونِ ملک نہ بھیجنے کے احکامات جاری کیے ہیں
ایرانی حکومت نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور واشنگٹن کے ساتھ سفارتی تعلقات میں بہتری کے لیے امریکہ کے سامنے اپنے مطالبات رکھ دیے ہیں، جس میں تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی، منجمد اثاثوں کی واپسی اور بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے کی شرائط شامل ہیں۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی جانب سے بھیجی گئی حالیہ تجاویز نے دونوں ممالک کے مابین اختلافات کو کسی حد تک کم کیا ہے، تاہم تہران کا مؤقف ہے کہ ان اختلافات کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے واشنگٹن کو جنگ کی دھمکیاں دینا بند کرنا ہوگا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس حوالے سے جاری اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ ایران سنجیدگی، نیک نیتی اور ٹھوس منطقی شکوک و شبہات کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اپنا رہا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تہران کا بنیادی مقصد لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا فوری خاتمہ، بین الاقوامی بینکوں میں پھنسے اپنے منجمد اثاثوں کا اجرا اور ایرانی جہازوں کے خلاف ہونے والی بحری قزاقی کو روکنا ہے۔
انہوں نے جوہری معاملات پر میڈیا میں گردش کرنے والی قیاس آرائیوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر نے بھی یورینیم بیرونِ ملک نہ بھیجنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ بات چیت کا موجودہ محور صرف جنگ بندی ہے، اور ان مذاکرات کی مزید تفصیلات مجاز حکام اور مذاکراتی ٹیم کے مقرر کردہ نمائندے ہی فراہم کریں گے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے ساتھ جاری ان مذاکرات کی تصدیق کی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اس وقت تہران کے ساتھ رابطے میں ہے اور ان کا واحد ایجنڈا یہ ہے کہ ایران کے پاس کسی بھی صورت جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہییں۔
امریکی صدر نے عزم ظاہر کیا کہ وہ ایران کے پاس موجود انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو اپنے قبضے میں لے لیں گے تاکہ خطے کو جوہری خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
THU MAY 21 2026 | 11:31 PM
ایران کو کسی صورت افزودہ یورینیم رکھنے نہیں دیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا آبنائے ہرمز پر کسی قسم کا ٹول ٹیکس نہیں چاہتا
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ لیکن ایران کو کسی صورت افزودہ یورینیم رکھنے نہیں دیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس وقت ہم ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ تاہم امریکا آبنائے ہرمز پر کسی قسم کا ٹول ٹیکس نہیں چاہتا۔ ہم اپنا مقصد کسی نہ کسی طرح حاصل کر لیں گے۔
انہوں ںے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔ اور امریکا ایران کو افزودہ یورینیم رکھنے کی کسی صورت اجازت نہیں دے گا۔ ہم افزودہ یورینیم حاصل کر لیں گے۔ تاہم ہمیں افزودہ یورینیم کی ضرورت نہیں ہے۔
چین سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ شی جنگ پنگ کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے سیف گارڈز پر بھی بات ہوئی ہے۔ مصنوعی ذہانت سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر منسوخ کر دیا گیا کیونکہ کچھ چیزیں اچھی نہیں تھیں۔
دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے افزودہ یورینیم ملک سے باہر منتقل کرنے کی تجویز مسترد کر دی۔ ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ یورینیم کے ذخائر کو بیرون ملک منتقل کرنا ایران کو ممکنہ حملوں اور دباؤ کے مقابلے میں کمزور بنا سکتا ہے۔
THU MAY 21 2026 | 09:19 PM
مذاکرات میں اچھے اشارے ملے،پاکستانی وفد آج ایران جائے گا ، امریکی وزیر خارجہ
اچھا معاہدہ نہ ملنے پر صدر ٹرمپ کے پاس دیگر اختیارات موجود ہیں ،مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ پاکستانی وفد آج ایران جائے گا ،ایران سے مذاکرات میں اچھے اشارے ملے ہیں، دیکھتے ہیں ایران سے معاہدہ ہوتا ہے یا نہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ٹولنگ سسٹم سفارتی معاہدے کو ناقابل عمل بنا دے گا،امید ہے پاکستانی حکام کا ایران جانا مذاکرات میں اچھی پیشرفت ثابت ہوگا۔
پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی فائبر آپٹک کیبلز پر “اجازت کی شرط” عائد کرنے کی دھمکی دے کر عالمی ڈیجیٹل رابطوں سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والی اہم کیبلز میں AAE-1 (ایشیا، افریقہ، یورپ) شامل ہے، جو ہانگ کانگ سے اٹلی اور فرانس تک انٹرنیٹ فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ FALCON اور Gulf Bridge کیبلز خلیجی ممالک کو بھارت اور مشرقی افریقہ سے جوڑتی ہیں۔
ڈیٹا ماہرین کے مطابق ان کیبلز کے ذریعے ہر قسم کا ڈیٹا منتقل ہوتا ہے، جس میں ویڈیوز، ای میلز، سوشل میڈیا، مالیاتی لین دین اور حکومتی مواصلات شامل ہیں۔
اگرچہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایشیا اور یورپ کے درمیان مرکزی ڈیٹا ٹریفک متبادل راستوں سے بھی گزرتا ہے، اس لیے مکمل عالمی خلل کا امکان محدود ہے، تاہم خلیجی ممالک کے لیے خطرہ برقرار ہے کیونکہ تمام ڈیٹا کو زمینی نیٹ ورکس پر منتقل کرنا ممکن نہیں ہو سکتا۔
خاص طور پر قطر، جہاں AAE-1 کا اہم ٹرمینل موجود ہے، کسی بھی خلل سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی جغرافیائی ساخت اسے حساس بنا دیتی ہے، جہاں ایران آسانی سے کیبلز کو نقصان پہنچا سکتا ہے یا مرمت کے عمل میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔
عالمی سطح پر ہر سال تقریباً 200 کیبل حادثات رپورٹ ہوتے ہیں، جن میں زیادہ تر جہازوں کے لنگر گھسیٹنے جیسے واقعات شامل ہوتے ہیں، تاہم مرمت کے لیے خصوصی جہاز درکار ہوتے ہیں جو طویل وقت تک ایک ہی مقام پر رہتے ہیں، جس سے وہ بھی خطرے میں آ سکتے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق ایران کا یہ مؤقف بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے 1982 کے سمندری قانون (UNCLOS) کے تحت ممالک کو خصوصی اقتصادی زون میں کیبل بچھانے کی اجازت ہوتی ہے اور ساحلی ریاستیں عموماً اس پر پابندی نہیں لگا سکتیں۔
اگرچہ ایران نے اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں، تاہم اسے باضابطہ طور پر منظور نہیں کیا، جس کے باعث قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
THU MAY 21 2026 | 08:53 AM
آبنائے ہرمز کی بندش سے خوراک کا شدید بحران پیدا ہونیوالا ہے، ایف اے او
بحران کی شدت مختلف مراحل سے گزرے گی، توانائی کی قلت، کھاد اور بیجوں کی کمی، کم پیداوار، اور بالآخر خوراک کی مہنگائی شامل ہیں
فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش آنے والے مہینوں میں عالمی سطح پر خوراک کے شدید بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
ادارے کے مطابق ہرمز کے راستے عالمی تیل کی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ اور کھاد کی سپلائی کا ایک تہائی حصہ گزرتا تھا، تاہم ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد یہ اہم گزرگاہ مؤثر طور پر بند ہو گئی ہے۔
ایف اے او نے خبردار کیا کہ اس صورت حال کے باعث خاص طور پر گرمیوں کی فصلوں کے لیے کھاد کی قلت پیدا ہو سکتی ہے، جس سے زرعی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ادارے نے متبادل زمینی و بحری راستوں، خصوصاً جزیرہ نما عرب سے بحیرہ احمر تک راستے استعمال کرنے پر زور دیا، جبکہ ممالک سے اپیل کی کہ توانائی اور کھاد کی برآمدات پر پابندیاں نہ لگائی جائیں اور غذائی امداد کو تجارتی پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا جائے۔
ایف اے او کے چیف اکنامسٹ میکسیمو ٹوریرو کے مطابق یہ صرف عارضی مسئلہ نہیں بلکہ “زرعی و غذائی نظام کو باقاعدہ جھٹکا” ہے، جو مرحلہ وار سامنے آ رہا ہے۔
ادارے کے مطابق بحران کی شدت مختلف مراحل سے گزرے گی، جن میں توانائی کی قلت، کھاد اور بیجوں کی کمی، پیداوار میں کمی، اجناس کی قیمتوں میں اضافہ اور بالآخر خوراک کی مہنگائی شامل ہیں۔
ایف اے او نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو آئندہ 6 سے 12 ماہ میں مکمل عالمی خوراک بحران پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ ادارے کا عالمی فوڈ پرائس انڈیکس پہلے ہی مسلسل تین ماہ سے بڑھ رہا ہے۔
THU MAY 21 2026 | 08:34 AM
ایران سے درست جواب چاہیے جس سے بہت سے لوگوں کی جانیں بچ سکتی ہیں، ٹرمپ
ترک صدر اچھے اتحادی ہیں ، ترکیہ کے عوام ان کی عزت کرتے ہیں ، امریکی صدر
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جب تک ایران معاہدہ نہیں کرتا ایران کیلئے کوئی رعایت نہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ کیوبا ایک ناکام ملک ہے اور ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہاں آگے کیا صورتحال ہوگی تاہم کیوبا میں مزید کشیدگی نہیں بڑھے گی، انہوں نے کہا کہ امریکا کیوبا کو آزاد کرا رہا ہے اور کیوبا کے عوام کی مدد کرنا ہوگی۔
ایران کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو ایران سے درست جواب چاہیے، اگر صحیح جواب مل گیا تو بہت سے لوگوں کی جانیں بچ سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں معقول لوگوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور امید ہے کہ معاہدہ کرنے میں کامیابی حاصل ہو جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے جواب کا چند روز مزید انتظار کیا جائے گا اور جب تک معاہدہ نہیں ہوتا، ایران کیلئے کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ معاہدہ نہ کیا تو ایران کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کو ایک موقع دینے جا رہے ہیں۔ اور مجھے کوئی جلدی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو ایک اچھے معاہدے کی پیشکش کی ہے۔ لیکن اگر معاہدہ نہ کیا تو ایران کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔ نیتن یاہو اور میں ایران سے متعلق متفق ہیں۔ اور نیتن یاہو کو جو کہیں گے وہ کرے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اقرار کیا کہ ایران ڈیل کرنے کے لیے بےتاب ہے۔ ایران کے خلاف کارروائی کے دوران امریکا کے 13 فوجی مارے گئے۔
دورہ چین سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین کا دورہ کامیاب رہا۔ اور چینی صدر سے بہت اچھی ملاقات ہوئی۔ اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ چینی صدر بہت اچھے انسان ہیں۔
WED MAY 20 2026 | 11:24 AM
مشرق وسطیٰ میں فوری اور جامع جنگ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے ، چینی صدر
عالمی نظام کو “زیادہ منصفانہ اور متوازن” بنانے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے ، صدر پیوٹن سے ملاقات کے دوران گفتگو
چین کے صدر شی جن پنگ اور روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے بیجنگ میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے دوران دوطرفہ تعلقات کو سراہتے ہوئے اسٹریٹجک تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا، جس میں توانائی کے شعبے کو خاص اہمیت دی گئی۔
چینی دارالحکومت میں عظیم عوامی ہال میں پیوٹن کا سرکاری استقبال کیا گیا، جہاں گارڈ آف آنر اور توپوں کی سلامی دی گئی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان باضابطہ مذاکرات کے ساتھ ملاقات بھی ہوئی۔
ملاقات کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے ایران سے متعلق جاری کشیدگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں فوری اور جامع جنگ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور روس کو طویل المدتی حکمت عملی پر توجہ دینی چاہیے اور عالمی نظام کو “زیادہ منصفانہ اور متوازن” بنانے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اعتماد اور اسٹریٹجک تعاون نے تعلقات کو موجودہ سطح تک پہنچایا ہے۔
🇷🇺🇨🇳 On May 19, President #Putin arrived in Beijing for an official visit to China at the invitation of President Xi Jinping.
The visit marks the 25th anniversary of the landmark Russia-China Treaty of Good-Neighbourliness, Friendship & Cooperation.#RussiaChinapic.twitter.com/gsyApeuvu8
دوسری جانب صدر پیوٹن نے کہا کہ چین اور روس کے تعلقات عالمی استحکام میں کردار ادا کر رہے ہیں، اور روس مشرق وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ایک قابل اعتماد توانائی فراہم کنندہ رہے گا۔
یہ ملاقات امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ دورۂ بیجنگ کے فوراً بعد ہوئی ہے، جس کے باعث اس سربراہی اجلاس کو عالمی سطح پر خاص توجہ حاصل ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چین بیک وقت بڑی عالمی طاقتوں کے رہنماؤں کی میزبانی کر کے اپنے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کو اجاگر کر رہا ہے۔ چینی سرکاری میڈیا نے اسے ایک منقسم عالمی نظام میں چین کی اہمیت کے اعتراف کے طور پر پیش کیا ہے۔
ادھر دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں بہتری کے آثار بھی سامنے آئے ہیں، جبکہ روس نے توانائی تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے، خاص طور پر “پاور آف سائبیریا 2” گیس پائپ لائن منصوبہ، جو روس کو شمالی چین سے جوڑے گا۔
واضح رہے کہ یوکرین جنگ کے باعث مغربی پابندیوں کا سامنا کرنے والے روس کے لیے چین ایک اہم معاشی سہارا بن چکا ہے، تاہم بیجنگ توانائی کے ذرائع میں تنوع برقرار رکھنے کی پالیسی پر بھی قائم رہ سکتا ہے۔