پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی مختلف نجی کرکٹ لیگز میں قومی کھلاڑیوں کی شرکت کے لیے این او سی پالیسی سامنے آگئی، جس کے تحت افغانستان پریمیئر لیگ کے لیے پاکستانی کرکٹرز کو این او سی جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ آئی ایل ٹی ٹوئنٹی اور ابو ظہبی ٹی 10 لیگ میں شرکت کے لیے کھلاڑیوں کو مشروط اجازت دی جائے گی۔
واضح رہے کہ مختلف ممالک میں ہونے والی ٹی 20 اور ٹی 10 لیگز میں پاکستانی کرکٹرزکی شرکت کیلئے پی سی بی کا این اوسی لازمی ہوتا ہے، بورڈ کی اجازت کے بغیر کوئی بھی قومی کھلاڑی ان لیگزمیں شرکت نہیں کر سکتا۔
خیال رہے کہ محمد عامر نے 2019 میں انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا، تاہم وہ مختلف فرنچائز لیگز میں کھیلتے رہے ہیں، انہوں نے برطانوی شہریت بھی حاصل کر رکھی ہے، جس کی بنیاد پر افغانستان پریمیئر لیگ میں برطانوی کھلاڑی کی حیثیت سے رجسٹریشن کرائی اسی وجہ سے انہیں اس لیگ میں شرکت کے لیے پی سی بی سے این او سی لینے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
ہم نیوزذرائع کے مطابق پاکستان اورافغانستان کے درمیان موجودہ سیاسی کشیدگی کے باعث پی سی بی نے افغانستان پریمیئر لیگ میں قومی کرکٹرز کی شرکت کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس لیگ میں شرکت کے لیے تاحال پی سی بی کو کسی بھی پاکستانی کھلاڑی کی جانب سے این او سی کے حصول کی درخواست موصول نہیں ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی نے آئی ایل ٹی ٹوئنٹی اورابو ظہبی ٹی 10 لیگ میں شرکت کے خواہش مند قومی کھلاڑیوں کے لیے مالی شرائط بھی مقررکردی ہیں۔
نئی پالیسی کے تحت آئی ایل ٹی ٹوئنٹی میں شرکت کے لیے فی کھلاڑی 25 ہزار امریکی ڈالر فیس وصول کی جائے گی، جبکہ ابو ظہبی ٹی 10 لیگ میں شرکت کے لیے فی کھلاڑی 10 ہزار امریکی ڈالر ادا کرنا ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق مقررہ فیس کی ادائیگی کے بغیر کسی بھی قومی کھلاڑی کو متعلقہ لیگ میں شرکت کے لیے این او سی جاری نہیں کیا جائے گا۔ اس طرح ان دونوں لیگز میں شرکت کے خواہش مند کھلاڑیوں کو بورڈ کی جانب سے مقرر کردہ شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
پی سی بی کی جانب سے یہ پالیسی بین الاقوامی کرکٹ کے ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کی گئی ہے، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ضوابط کے مطابق کرکٹ بورڈز نجی لیگز میں بین الاقوامی کرکٹرز کی شرکت کے عوض متعلقہ لیگ کی انتظامیہ سے فیس وصول کر سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ طریقہ کار صرف پاکستان کرکٹ بورڈ تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے دیگر کرکٹ بورڈز بھی نجی لیگز میں اپنے کھلاڑیوں کی شرکت کے لیے این او سی جاری کرتے وقت فیس وصول کرتے ہیں، اس اقدام کا مقصد نجی لیگز میں بین الاقوامی کرکٹرز کی شرکت کے معاملات کو باقاعدہ ضابطے کے تحت لانا اور بورڈز کے مالی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ پی سی بی عام طور پر ان لیگز سے این او سی کی مد میں فیس وصول نہیں کرتا جو آئی سی سی کے فل ممبر کرکٹ بورڈز کے زیر انتظام چلائی جاتی ہیں تاہم نجی سطح پر منعقد ہونے والی دیگر لیگز کے لیے بورڈ اپنی پالیسی اور مقرر کردہ شرائط کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔



