بنگلا دیش کی فضائیہ کے سابق سربراہ ایئر چیف مارشل شیخ عبدالحنان کو کرپشن کے الزامات پر قطر میں گرفتار کر لیا گیا۔
بنگلادیشی میڈیا کے مطابق انسداد بدعنوانی کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق فضائی سربراہ پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے اور کروڑوں ٹکے کی مشکوک مالی لین دین میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں، جبکہ ان کی اہلیہ بھی مقدمے میں ملزمہ ہیں۔
واضح رہے کہ بنگلا دیش کے انسداد بدعنوانی کمیشن (اے سی سی) نے جولائی 2025 میں شیخ عبدالحنان اور ان کی اہلیہ کے خلاف غیر قانونی اثاثے بنانے اور منی لانڈرنگ کے الزامات پر دو مقدمات درج کیے تھے۔
انسداد بدعنوانی کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد اختر الاسلام نے کہا کہ قطری حکام نے شیخ عبدالحنان کو 15 اکتوبر کو حراست میں لیا تھا۔ اور انٹرپول نے ای میل کے ذریعے کمیشن کو گرفتاری سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا۔
The ACC filed 2 cases against Sheikh Abdul Hannan and his wife in July 2025 over allegations of illegal wealth accumulation and money laundering
#dhakatribune
#NewsUpdate https://t.co/sL1JP65ijJ— DhakaTribune (@DhakaTribune) October 18, 2026
کمیشن کی تحقیقات کے مطابق شیخ عبدالحنان پر الزام ہے کہ انہوں نے آمدن کے معلوم ذرائع سے زائد 3 کروڑ 28 لاکھ ٹکے سے زیادہ مالیت کے اثاثے بنائے۔ اس کے علاوہ ان کے ذاتی نام پر موجود 6 بینک اکاؤنٹس کے ذریعے 27 کروڑ 63 لاکھ ٹکے کی مشکوک مالی لین دین کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
کمیشن نے تحقیقات کی بنیاد پر گزشتہ سال جولائی میں ان کے خلاف انسداد بدعنوانی، منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کی روک تھام سے متعلق قوانین کے تحت مقدمات درج کرنے کی منظوری دی تھی۔
مقدمے میں سابق فضائی سربراہ کی اہلیہ بھی نامزد ہیں۔ ان پر شوہر کی مدد سے آمدن کے معلوم ذرائع سے زائد ایک کروڑ 91 لاکھ ٹکے سے زیادہ مالیت کے اثاثے بنانے کا الزام ہے، جبکہ ان کے نام پر موجود 32 بینک اکاؤنٹس کے ذریعے ایک کروڑ 18 لاکھ ٹکے کی مشکوک مالی لین دین کا بھی پتا چلا ہے۔
کمیشن کے مطابق شیخ عبدالحنان کو متعدد کرپشن مقدمات کا سامنا تھا اور ان کے بیرون ملک سفر پر پابندی بھی عائد تھی، تاہم اس کے باوجود وہ بنگلا دیش سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
تحقیقاتی حکام نے سابق فضائی سربراہ کے مبینہ بیرون ملک اثاثوں کا سراغ کینیڈا اور دبئی تک لگایا ہے۔ اس کے علاوہ تین مختلف ممالک میں ان کے بچوں کے نام پر رجسٹرڈ اثاثوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ڈھاکا کی ایک عدالت نے مارچ میں انسداد بدعنوانی کمیشن کی درخواستوں پر شیخ عبدالحنان اور ان کی اہلیہ کے انکم ٹیکس ریکارڈ ضبط کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس سے قبل عدالت ان کے دو اپارٹمنٹس ضبط کرنے اور بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے احکامات بھی جاری کر چکی تھی۔
دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلا دیش بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل محمد نذمل حسن کو بھی کرپشن کے مقدمات کا سامنا ہے اور وہ بھی اس وقت بیرون ملک ہیں۔ تاہم ان کے بیرون ملک سفر پر عدالتی پابندی عائد نہیں کی گئی۔
واضح رہے کہ شیخ عبدالحنان اور محمد نذمل حسن دونوں کو سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ حکومت کے دور میں مسلح افواج کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ شیخ عبدالحنان نے 1984 میں بنگلا دیش ایئر فورس میں بطور جنرل ڈیوٹی پائلٹ کمیشن حاصل کیا تھا۔ اور انہوں نے 12 جون 2021 کو فضائیہ کے 16ویں سربراہ کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور 11 جون 2024 کو عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ شیخ عبدالحنان اور ان کی اہلیہ پر عائد الزامات کی حتمی عدالتی حیثیت کا تعین قانونی کارروائی کے بعد ہو گا۔



