ترکیہ کے شہر استنبول میں 15 سالہ طالبہ نے ایک مڈل اسکول میں 8 طلبہ کو چاقو کے وار کرکے زخمی کیا، جن میں سے ایک طالب علم جاں بحق ہو گیا۔
حکام نے جاں بحق طالبعلم کی عمر نہیں بتائی تاہم ترکیہ کے مڈل اسکولوں میں عموماً 10 سے 14 سال کے بچے زیر تعلیم ہوتے ہیں۔
BASIN AÇIKLAMASI
6 Ekim 2026 tarihinde İstanbul’un Başakşehir ilçesindeki bir ortaokulda meydana gelen olayda 8 öğrencimiz yaralanmış ve hastanelere sevk edilmiştir.
Tedavi altına alınan öğrencilerimizden Eslem Sare Bulut, yapılan tüm müdahalelere rağmen vefat etmiştir. Yaralanan diğer 7 öğrencimizin tedavileri devam etmektedir.
Olayın ardından güvenlik güçlerimizce derhâl çalışma başlatılmış; olayı gerçekleştirdiği belirlenen öğrenci kısa sürede yakalanmış ve hakkında gerekli adli işlemlere başlanmıştır.
Hadisenin tüm yönleriyle aydınlatılması amacıyla Bakanlığımız tarafından 1 Mülkiye Başmüfettişi ile 1 Polis Başmüfettişi görevlendirilmiş; olayın öncesi ve meydana geliş sürecine ilişkin bütün hususlar hassasiyetle değerlendirilmektedir.
Bakanlığımız, Millî Eğitim Bakanlığı ve ilgili kurumlarla koordinasyon içerisinde; benzer hadiselerin tekrar yaşanmaması amacıyla okullarda ve okul çevrelerinde uygulanan güvenlik tedbirlerini gözden geçirmekte, ihtiyaç duyulan ilave önlemlere yönelik çalışmalarını sürdürmektedir.
Hayatını kaybeden evladımız Eslem Sare Bulut’a Allah’tan rahmet; ailesine, yakınlarına, eğitim camiasına ve aziz milletimize başsağlığı, tedavileri devam eden öğrencilerimize acil şifalar diliyoruz.
Kamuoyuna saygıyla duyurulur.
— T.C. İçişleri Bakanlığı (@TC_icisleri) October 6, 2026
یورو نیوز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ استنبول کے گورنر کے مطابق واقعہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 8 بج کر 35 منٹ پر پیش آیا۔ پولیس نے ملزمہ کو گرفتار کر لیا، جس کی شناخت ایک دوسرے تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم 10 ویں جماعت کی 15 سالہ طالبہ کے طور پر ہوئی ہے۔
رپورٹ میں ترک وزیر تعلیم سے بتایا گیا ہے کہ حملہ کرنے والی لڑکی نے اسی اسکول کی یونیفارم پہن کر خود کو اسی اسکول کی طالبہ ظاہر کیا۔
وزیر صحت کے مطابق حملے میں 8 طلبہ زخمی ہوئے، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک جبکہ 2 کی حالت درمیانی سے سنگین نوعیت کی تھی۔ 7 زخمیوں کا اسپتالوں میں علاج جاری ہے۔
اسکول میں تدریسی سرگرمیاں معطل
یورو نیوز کے مطابق حملے کے بعد اسکول میں منگل اور بدھ کے روز تدریسی سرگرمیاں معطل کر دی گئیں۔
استنبول کی تیسری فوجداری عدالتِ امن نے واقعے کی کوریج پر پابندی عائد کر دی۔ ترکیہ کے میڈیا ریگولیٹری ادارے آر ٹی یو کے مطابق یہ اقدام تحقیقات کو اثرانداز ہونے سے بچانے اور “ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنانے” کے لیے کیا گیا۔
امام خطیب اسکول سرکاری سرپرستی میں چلنے والے مذہبی سیکنڈری اسکول ہیں، جو ابتدائی طور پر امام اور نماز کی قیادت کرنے والے مذہبی رہنماؤں کی تربیت کے لیے قائم کیے گئے تھے۔
صدر رجب طیب اردوان کی حکومت کے دور میں ان اسکولوں میں اب ترکیہ کے سیکنڈری سطح کے طلبہ کی ایک قابلِ ذکر تعداد زیر تعلیم ہے۔
حملے کا تعلق سیاسی یا نظریاتی
ناقدین کا مؤقف رہا ہے کہ ان اسکولوں کے پھیلاؤ سے سیکولر تعلیم متاثر ہوئی ہے۔ تاہم فی الحال ایسی کوئی اطلاعات سامنے نہیں آئیں کہ اس حملے کا تعلق سیاسی یا نظریاتی محرکات سے تھا۔
دو ہفتے قبل ترکیہ میں ایک ہائی اسکول کے باہر فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد زخمی ہو گئے تھے۔
ترک میڈیا کی رپورٹس کے مطابق صوبہ مانیسا کے گورنر ہاؤس کے مطابق مانیسا میں واقع انجی ازمیز ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل اناطولین ہائی اسکول کے قریب ایک مسلح شخص نے فائرنگ کی۔ جس کے سکیورٹی فورسز نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا تھا۔ ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ مشتبہ شخص جائے وقوع سے پیدل فرار ہو گیا تھا، جس کے بعد اس کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کی گئی۔
حملے کے بعد طالب علم کی خودکشی
یاد رہے اپریل میں ترکیے کے جنوب مشرقی صوبے شانلی عرفا کے ایک ہائی اسکول میں سابق طالب علم نے فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں طلبہ سمیت 16 افراد زخمی ہو گئے تھے، حملہ آور نے بعد ازاں خودکشی کر لی تھی۔
اس واقعے کے اگلے ہی روز صوبے کہرامان مرعش میں 14 سالہ طالب علم نے اپنے اسکول کے 2 کلاس رومز میں فائرنگ کی جس میں کئی طلبہ اور اساتذہ کی ہلاکتوں کی اطلاعات آئی تھیں، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو ہلاک کر دیا تھا۔
فائرنگ کے اس واقعہ سے ایک روز قبل ہی وزیر تعلیم یوسف تیکن اور وزیر داخلہ مصطفیٰ چفتشی نے 27-2026 کے تعلیمی سال کے لیے سکیورٹی اقدامات سے متعلق ایک پروٹوکول پر دستخط کیے تھے۔ ترکیہ میں نیا تعلیمی سال ایک ہفتہ قبل 14 ستمبر سے شروع ہوا ہے۔


