پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث کو پارلیمنٹ میں لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ توجہ نئے صوبے بنانے کے بجائے نظام کی خرابیوں اور اس کے ممکنہ طور پر ناکام ہونے کے خطرے پر ہونی چاہیے۔
لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ محسن نقوی صاحب کی اپنی رائے ہے جبکہ وہ اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر کسی بھی وفاقی وزیر یا حکومتی نمائندے کے ساتھ پارلیمنٹ میں بحث کے لیے تیار ہیں۔
Asked PPP Chairman Bilawal Bhutto Zardari about his recent visit to Austria with President Asif Ali Zardari, the marriage speculation and Mohsin Naqvi’s campaign @BBhuttoZardari @MohsinnaqviC42 pic.twitter.com/mlqQy91hSy
— Murtaza Ali Shah (@MurtazaViews) September 8, 2026
چیئرمین پیپلز پارٹی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو کئی دہائیوں سے نظام سے متعلق مسائل کا سامنا ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مسائل پر توجہ دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اصل توجہ نظام کے مسائل، ان کی وجوہات اور نظام کے ممکنہ طور پر ناکام ہونے کے خطرے پر ہونی چاہیے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ منتخب نمائندوں کو ایسے معاملات پارلیمنٹ میں زیر بحث لانے چاہئیں۔ ان کے مطابق محسن نقوی کو پارلیمنٹ کے باہر ہونے والے فورمز کے بجائے قومی اسمبلی کے اجلاس میں آنا چاہیے تاکہ نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر باقاعدہ بحث ہوسکے۔
انہوں نے کہا کہ بحث اس بات پر ہونی چاہیے کہ ملک کے اصل مسائل کیا ہیں اور ان مسائل کا حل کیا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ کسی بھی مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے اس کی بنیادی وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے اور پارلیمنٹ میں اس حوالے سے تفصیلی بحث ہونی چاہیے۔
نئے انتظامی یونٹس پر محسن نقوی کا مؤقف
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے حامی ہیں۔ انہوں نے لاہور کی یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی میں نئے صوبوں سے متعلق نیشنل پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے نظام حکمرانی کو ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔
محسن نقوی نے کہا تھا کہ وہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، چاہے اس کے نتیجے میں انہیں اپنی وزارت سے ہاتھ دھونا پڑے۔
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وہ عہدے پر رہیں یا نہ رہیں، اس معاملے پر اپنے مؤقف سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
محسن نقوی نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر نئے انتظامی یونٹس عوام کی خواہش اور آواز کی عکاسی کرتے ہیں تو کوئی فرد یا سیاسی جماعت انہیں روک نہیں سکتی۔
بلاول کا اپوزیشن سے رابطوں پر مؤقف
بلاول بھٹو زرداری نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ پیپلز پارٹی اپوزیشن جماعتوں سے رابطے میں نہیں۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر الیکشن پر ہمارے تحفظات تھے اور ہیں،ن لیگ سے گفتگوجاری ہے،گلگت بلتستان کے عوام نے ہمیں واضح اکثریت دی۔


