وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شیشہ کیفے چلانے پر تاحکم ثانی مکمل پابندی عائد کردی گئی جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضلعی انتظامیہ کو ایک ماہ میں رولز بنانے کی ہدایت کر دی۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنرز کو جاری احکامات میں کہا گیا ہے کہ پابندی کا اطلاق این او سی کے حامل شیشے کیفے پر بھی ہوگا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر فی الفور عمل درآمد کرتے ہوئے وفاقی دارلحکومت میں شیشہ کیفے چلانے پر تاحکم ثانی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے پابندی کے تحت این او سی کے حامل شیشہ کیفے، آؤٹ ڈور اور ان ڈور تمام اقسام کو شیشہ کا کاروبار چلانے سے روک دیا گیا ہے،خلاف ورزی کرنے کی…
— DC Islamabad (@dcislamabad) September 9, 2026
آؤٹ ڈور اور ان ڈور شیشہ کیفے چلانے سے روک دیا گیا ہے،خلاف ورزی پر کیفے سیل جبکہ مالک کے خلاف مقدمہ درج ہوگا،اسسٹنٹ کمشنرزروزانہ انسپکشن یقینی بنائیں گے۔
دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں شیشہ کیفوں کی تفصیلات طلبی کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی جس میں آئی جی اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے۔
‘تمباکو کیساتھ چرس ملا دی جائے تو اسکو اسموکنگ ہی کہیں گے’
دوران سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ شیشہ کیفے والوں کے کاروبار کا احترام ہے مگر پورے کا پورا شہر تباہ نہ کریں، ایسا نہ ہو کہ کل آپ کا بھائی، آپ کے گھر والا کوئی شخص اس کا شکار ہو جائے، تمباکو کے ساتھ اگر چرس کو ملا دیا جائے تو اس کو اسموکنگ ہی کہیں گے۔ایک اوپن جگہ بیٹھ کر یہ سب کچھ ہو رہا ہے،آپ اپنی نسلیں تباہی کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔
اس موقع پر آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ عدالتی حکم کے بعد ہم نے ان کے خلاف سخت ایکشن لیا ہے،ہم نے کچھ لوگوں پر ایف آئی آرز بھی درج کی ہیں،کیفے کے مالکان کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا،14اور 15 سال کے بچے بچیاں کیفوں میں پائے گئے۔
ہم نے عدالت کے حکم پر کیفوں کےخلاف ایکشن لیا اس کے علاوہ شیشہ کیفوں سے متعلق آگاہی مہم بھی شروع کر رکھی ہے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے واضح کیا کہ رولز بنائے بغیر اِن کیفوں کو اس طرح نہیں چلنے دیا جائے گا،اس طرح کے ارینجمنٹ اسلام آباد کے لوگوں کی زندگی کو تباہ کر رہے ہیں،جہاں پر بھی پتہ چلتا ہے کیفے سیل کریں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ جب ریڈ کیا جاتا ہے تو دروازے بند کر دیتے ہیں؟ جس پر آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کا کہنا تھا کہ ہم نے جتنے بھی ریڈ کیے ہیں ایسا ہی ہو رہا ہے،۔
شیشہ کیفے کیس پر چیف کمشنر اور ضلعی انتظامیہ نے اپنا تحریری جواب جمع کروا دیا،اسلام آباد انتظامیہ نے بتایا کہ شیشہ کیفے کے لیے کوئی الگ ایس او پیز بنانے کی ضرورت نہیں،شیشہ کھلی اور بغیر چھت والی جگہوں پر فراہم کرنے کی اجازت ہے۔
عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو ایک ماہ میں رولز بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت ایک ماہ تک ملتوی کر دی۔



