وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ یمن سے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں سے پاکستان ، سعودی عرب اور ترکیے کا مشترکہ دفاعی معاہدہ آپریشنل ہوگا اور ہم مدد کے پابند ہیں۔
جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ سہ فریقی مکہ معاہدے کے مطابق ایک ملک پر جارحیت تینوں ملکوں پر جارحیت تصور کی جائے گی۔ ہم معاہدے کے تحت مدد کرنے کے پابند ہیں اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔
وزیردفاع کا مزید کہنا تھا کہ اگر کسی ایک رکن ملک کے خلاف جارحیت ہوتی ہے تو تینوں ممالک اس کا جواب دیں گے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ دوطرفہ نہیں بلکہ تینوں ممالک کے درمیان سہ فریقی معاہدہ ہے اس لیے اس کی شرائط تینوں رکن ممالک پر لاگو ہوں گی۔
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ پاکستان اس معاہدے کی شرائط کا پابند ہے اور ضرورت پڑنے پر ان شرائط کی پاسداری کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی جارحانہ معاہدہ نہیں بلکہ مشترکہ دفاع کے لیے کیا گیا معاہدہ ہے۔
یمن سے سعودی عرب پر ہونیوالے حملوں سے پاکستان ، سعودی عرب اور ترکیے کا مشترکہ دفاعی معاہدہ آپریشنل ہوگا، ہم معاہدے کے تحت مدد کرنے کے پابند ہیں، خواجہ آصف pic.twitter.com/MS5ukl2fbf
— Shahzeb Khanzada (@shazbkhanzdaGEO) September 8, 2026
خواجہ آصف نے بتایا کہ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ رسمی دفاعی معاہدہ نہ ہونے کے باوجود بھی مشکل وقت میں تعاون کیا ہے۔ ان کے مطابق 2014 میں جب سعودی عرب پر حملہ ہوا تو وہ اس وقت وزیر دفاع تھے اور 26 یا 27 مارچ کو سعودی عرب گئے تھے۔ اس وقت پاکستان نے سعودی عرب کی مدد کی تھی، تاہم انہوں نے اس تعاون کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔
ایران، امریکا کشیدگی پر موقف
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے حوالے سے سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ ابھی امید ختم نہیں ہوئی اور مسئلے کے حل کے لیے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ رابطے موجود ہیں اور پاکستان نے بھی تنازع میں شامل تمام فریقین کو قائل کرنے کی کوشش کی ہے۔ خواجہ آصف کے مطابق ایران کے ساتھ پاکستان کے برادرانہ تعلقات ہیں جبکہ تنازع میں شامل دیگر ممالک کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات اہم ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ موجودہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک مشکل امتحان ہے اور پاکستان کو اس معاملے میں بہت احتیاط کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ ان کے مطابق پاکستان تمام ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے خطے میں ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتا ہے جس سے کشیدگی کم ہو۔
سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے
سعودی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی بن صالح المالکی نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی عرب کے شہروں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 73 افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے اتحاد کی جانب سے ‘سخت جوابی کارروائی’ کا عندیہ بھی دیا۔
پاکستان کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت
پاکستان نے سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق حوثی ملیشیا نے ابہا، خمیس مشیط اور نجران میں شہری اور اقتصادی اہداف کو نشانہ بنایا، جو سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ کہ سعودی عرب پر حملے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں اور یہ حملے یمن کے تنازع کے پرامن اور پائیدار حل کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی قیادت، حکومت اور برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔
امریکا کا بھی اظہار تشویش
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سعودی عرب پر حوثی حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے واضح طور پر ایران کا ہاتھ نظر آتا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے روبیو کا کہنا تھا کہ حوثی کئی حوالوں سے ایرانیوں کے ایجنٹ اور پراکسی ہیں، اس لیے سعودی عرب پر ہونے والے حالیہ حملوں میں ایرانی کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔



