لاہور: پنجاب بار کونسل نے پی ٹی آئی کے سیاسی پروپیگنڈے سے لاتعلقی اختیار کرلی۔
پنجاب بار کونسل نے واضح کیا ہے کہ بعض اراکین کی جانب سے جاری حالیہ بیانات ان کی ذاتی رائے اور مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں، انہیں پاکستان کی پوری قانونی برادری، پاکستان بار کونسل یا پنجاب بار کونسل کا متفقہ اور اجتماعی مؤقف قرار نہیں دیا جاسکتا۔
پنجاب بار کونسل کے مطابق جمہوری ادارے میں چند افراد کی رائے کو اکثریت یا پورے ادارے کے اجتماعی مؤقف پر مسلط نہیں کیا جاسکتا۔ چند اراکین کے بیانات کو پوری قانونی برادری کی اجتماعی آواز قرار دینا درست نہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ زیرِ سماعت معاملات پر بار کونسلز، بار ایسوسی ایشنز اور ان کے نمائندگان کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو عدالتی کارروائی، اداروں کی آزادی یا عوامی اعتماد پر اثرانداز ہوں۔ زیرِ سماعت معاملات کا فیصلہ معزز عدالتوں نے آئین اور قانون کے مطابق کرنا ہے، اس لیے تمام متعلقہ حلقوں کو عدالتی عمل کے احترام کو مقدم رکھنا چاہیے۔
پنجاب بار کونسل نے کہا کہ بار کے پلیٹ فارم کو کسی فرد یا گروہ کے ذاتی، سیاسی یا جماعتی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ کونسل ایسے کسی بیان یا طرزِ عمل کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی جو ذاتی یا سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے بار کے اجتماعی پلیٹ فارم کو استعمال کرے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ وکلا برادری میں انتشار پیدا کرنے والے بیانات کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی۔ بار کونسلز کا بنیادی کردار قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی اور وکلا کے وقار کے تحفظ میں معاونت کرنا ہے۔
پنجاب بار کونسل کے مطابق کسی زیرِ سماعت معاملے پر عدالتی فیصلے سے قبل کسی فریق کے حق یا مخالفت میں رائے مسلط کرنا بار کونسلز کا کردار نہیں۔
After Pakistan Bar Council now Punjab Bar Council also disassociated itself from the political propaganda of the #PTI pic.twitter.com/JaKNkdp9tT
— javed soomro ( TI) (@SoomroJaved) August 22, 2026
کونسل نے کہا کہ وہ آئینِ پاکستان، قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی اور تمام آئینی و قانونی اداروں کے احترام پر غیر متزلزل یقین رکھتی ہے۔ تمام وکلا نمائندگان کو ذاتی اختلافات اور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر بار کے وقار، اتحاد اور ادارہ جاتی آزادی کو مقدم رکھنا چاہیے۔
پنجاب بار کونسل نے مزید کہا کہ زیرِ سماعت معاملات میں عدالتی عمل کا احترام، غیر جانب داری اور ذمہ دارانہ طرزِ بیان ہی قانونی برادری کے شایانِ شان ہے۔
واضح رہے کہ پنجاب بار کونسل کا یہ اعلامیہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بانی پی ٹی آئی عمران خان کے طبی معائنے اور انہیں شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل نہ کیے جانے کا معاملہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان شدید تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔
پی ٹی آئی نے سیاست اور بیان بازی سے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی، عطا تارڑ
حکومت کا مؤقف ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمران خان کا طبی معائنہ کرایا گیا اور شفا انٹرنیشنل اسپتال کے ڈاکٹرز بھی طبی معائنے کے عمل میں شامل تھے، جبکہ پی ٹی آئی نے اعتراض کیا کہ عدالتی حکم کے مطابق انہیں شفا اسپتال منتقل کیا جانا چاہیے تھا۔
اس معاملے پر توہینِ عدالت کی درخواست اور سیاسی بیان بازی کے بعد بعض وکلا کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات کے تناظر میں پنجاب بار کونسل نے واضح کیا کہ چند اراکین کی ذاتی رائے کو پوری قانونی برادری یا بار کونسل کا اجتماعی مؤقف قرار نہیں دیا جاسکتا۔

