حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ حکمرانوں کے مظالم سے معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے لاہور میں دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبے میں خواتین انتہائی غیر محفوظ ہیں اور انہیں محفوظ و باعزت سفری سہولیات بھی میسر نہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ گزشتہ سال خواتین کے خلاف زیادتی کے ساڑھے چار ہزار سے زائد کیسز رجسٹر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین سے تعلیم کا حق بھی چھینا جارہا ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہر بستی، گاؤں اور دیہات میں گرلز اسکول موجود ہوتے لیکن پنجاب حکومت نے مبینہ طور پر 11 ہزار میں سے تقریباً 7 ہزار گرلز اسکول آؤٹ سورس کردیئے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے دھرنے میں خواتین کی بڑی تعداد میں شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع سے مائیں، بہنیں اور بیٹیاں دھرنے میں شریک ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی کا خواتین ونگ مضبوط ہے۔ انہوں نے خواتین کارکنان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ خواتین ہر جدوجہد میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور یہ تحریک جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ دھرنا پٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری ٹیکسز، مہنگائی اور آئی پی پیز کے خلاف ہے۔ پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہونے سے ہر چیز مہنگی ہوجاتی ہے اور آج عام آدمی کے گھر کا چولہا ٹھنڈا پڑا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے باعث ایک فرد کی آمدن سے گھر چلانا مشکل ہوگیا ہے، مائیں اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر بچوں کی فیسیں ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق ملک کا موجودہ نظام خواتین کو ان کے حقوق فراہم نہیں کررہا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان میں ساڑھے 8 کروڑ مزدور ہیں، جن میں تقریباً تین کروڑ خواتین شامل ہیں جو فیکٹریوں اور کھیتوں میں کام کرتی ہیں تاہم پنجاب کی چار کروڑ خواتین کی کم از کم اجرت بھی طے نہیں کی گئی۔
انہوں نے صحت کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نجی شعبے میں ڈاکٹرز کو 70 ہزار روپے تک کی ملازمت ملتی ہے، جبکہ حکومت کے پاس ڈاکٹروں کو دینے کے لیے بھی کچھ نہیں، ان کا کہنا تھا کہ جو ڈاکٹر اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتا ہے، اسے نوکری سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے، حکومت نے بنیادی مراکز صحت فروخت کرکے اپنی جان چھڑا لی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عوام کے مسائل حل کرنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمران عوام کے پیسوں سے پلتے ہیں اور انہوں نے الزام عائد کیا کہ مریم نواز نے 11 ارب روپے کا جہاز خریدا۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم میں غریب کے بچوں کا حق بھی اتنا ہی ہے جتنا حکمرانوں کے بچوں کا ہے۔ ملک میں 40 فیصد سے زائد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ گزشتہ چھ برس کے دوران ملک بھر میں غربت میں 33 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق پنجاب میں غربت میں سب سے زیادہ 41 فیصد اضافہ ہوا۔
امیر جماعت اسلامی نے الزام عائد کیا کہ شہباز شریف، مریم نواز اور ’’انہیں مسلط کرنے والوں‘‘ نے عوام کو غریب کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے مظالم سے معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا اور عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

