وزیراعظم شہباز شریف نے نے یوم آزادی پر ڈی چوک میں ہونے والی پریڈ میں بگھی پر پروٹوکول انجوائے کرنے والے آئی جی اور چیف کمشنر اسلام آباد کو تحریری طور پر خبردار کیا ہے کہ “ایسا دوبارہ ہو”۔
وزیراعظم کی ہدایت پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس سید علی ناصر رضوی اور چیف کمشنر سہیل اشرف کو الگ الگ باضابطہ ایڈوائزری جاری کی ہے۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے سرکاری افسران کی جانب سے ’’ نمود و نمائش‘‘ اور ’’ذاتی تشہیر’ کے مظاہرے پر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ آئندہ ایسا طرز عمل نہیں ہونا چاہیے۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ 14 اگست کو اسلام آباد میں ہونے والی سرکاری تقریب کے دوران دونوں سینئر افسران کی بگھی میں آمد پر وزیراعظم نے ’’نہایت سنجیدہ نوٹس‘‘ لیا۔
Civil servants @CDAthecapital chair @SohailAshrafGor & IG @ICT_Police Syed Ali Nasir Rizvi entering independence day parade on a horse buggy with zero applause despite requests from hosts.
This is what happens when you do things unbecoming of your office. pic.twitter.com/7Ovl5OF20n
— Usama Khilji (@UsamaKhilji) August 15, 2026
وزیراعظم نے اس واقعے پر ’’گہری مایوسی اور ناراضی‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرز عمل سے سرکاری عہدے داروں کی جانب سے مراعات، نمود و نمائش اور ذاتی تشہیر کا تاثر پیدا ہوا، جو عوامی خدمت کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
وزیراعظم نے کہا کہ سول سرونٹس اور سرکاری عہدے داروں کو ہر وقت عاجزی، ضبط، وقار اور بہتر فیصلہ سازی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کا طرز عمل سرکاری اداروں پر عوام کے اعتماد کو متاثر کرتا ہے اور اعلیٰ سرکاری افسران سے متوقع معیار کے منافی ہے۔
ایڈوائزری میں دونوں افسران کو یاد دہانی کرائی گئی کہ وفاقی دارالحکومت کے منتظمین کی حیثیت سے ان پر شفافیت، مناسب طرز عمل اور ذمہ دارانہ حکمرانی کے اعلیٰ ترین معیار برقرار رکھنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ دونوں افسران کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا تھا۔ ویڈیو میں انہیں یوم آزادی کی پریڈ میں بگھی پر سوار ہو کر پہنچتے دیکھا گیا تھا۔
بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ حکمرانوں سے لے کر عام عوام تک اسی بگھی مائنڈ سیٹ کے ہو چکے ہیں۔ہمارے عام لوگوں کے پاس بھی تھوڑے پیسے آجائیں تو کم عمرنوکروں کی فوج رکھ کر دل خوش کرلیتے ہیں۔ ظلم اور زیادتی کرنا اپنا حق سمجھنے لگے ہیں یہانتکہ پولیس کا غیرقانونی کام بھی صحیح لگنے لگا ہے۔
— Shehla Naz (@Naxhocane) August 15, 2026
سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے اس منظر کو نوآبادیاتی دور میں اختیار اور مراعات کے اظہار سے تشبیہ دی۔ ایک صارف نے کہا کہ ’’بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ حکمرانوں سے لے کر عام عوام تک اسی بگھی مائنڈ سیٹ کے ہو چکے ہیں۔ہمارے عام لوگوں کے پاس بھی تھوڑے پیسے آجائیں تو کم عمرنوکروں کی فوج رکھ کر دل خوش کرلیتے ہیں۔ ظلم اور زیادتی کرنا اپنا حق سمجھنے لگے ہیں یہاں تک کہ پولیس کا غیرقانونی کام بھی صحیح لگنے لگا ہے۔‘‘
تاہم وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دونوں افسران کا دفاع کرتے ہوئے واقعے کی مختلف وضاحت پیش کی تھی۔
ایکس پر جاری بیان میں محسن نقوی نے کہا تھا کہ’’میں جانتا ہوں کہ جو کچھ ہوا وہ مناسب نہیں تھا، تاہم میں یہ وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ اس میں آئی جی اسلام آباد یا چیف کمشنر اسلام آباد کا کوئی قصور نہیں تھا۔”
I know what happened was not appropriate, but I want to clarify that it was neither the IG’s nor the Chief Commissioner’s Islamabad fault.
The Chief Guest and I were delayed due to the President’s meeting with the Prime Minister. The crowd had been waiting since 5:00 pm, and at… https://t.co/pkBmK45RMN
— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) August 15, 2026
ان کے مطابق صدر اور وزیراعظم کے درمیان ملاقات کے باعث مہمان خصوصی اور وہ خود تاخیر کا شکار ہوئے جبکہ عوام شام 5 بجے سے تقریب شروع ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔
وزیر داخلہ کے مطابق عوام کو مزید انتظار سے بچانے کے لیے افسران کو تقریب تقریباً 6 بجے شروع کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بگھی اصل میں مہمان خصوصی کے لیے مختص تھی، تاہم ’’ناگزیر حالات‘‘ کے باعث اسے افسران کو استعمال کرنا پڑا۔
