اسرائیل نے شمال مغربی شام میں واقع ابو الظہور ملٹری ایئربیس پر فضائی حملے کیے جن میں رن وے اور اسٹوریج تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
شام کے سرکاری ٹی وی چینل الاخباریہ نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل نے شمال مغربی شام میں حلب کے قریب واقع ابو الظہور ایئربیس کے رن وے اور اسٹوریج تنصیبات پر آٹھ فضائی حملے کیے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایک فوجی ذریعے اور اڈے کے قریب رہائش پذیر ایک شہری کے مطابق ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اسرائیلی طیاروں کی جنوبی لبنان میں شدید بمباری ، 11 افراد شہید ، 19 زخمی
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملے سے قبل ایک ترک فوجی وفد نے رن ویز کی بحالی کے کاموں کے آغاز کے لیے اس ائیربیس کا دورہ کیا تھا۔ حملے کے وقت سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اسرائیلی حملہ شام کی عسکری صلاحیتوں کی بحالی کے حوالے سے ترکیے کو پیغام پہنچانے کے لیے تھا۔
ترک سرحد سے تقریباً 70 کلومیٹر دور واقع یہ ائیربیس 2013 سے غیر فعال تھا اور شام کی 14 سالہ خانہ جنگی کے دوران کبھی سابق صدر بشار الاسد کی وفادار فورسز اور کبھی اپوزیشن دھڑوں کے قبضے میں آتا رہا ہے۔
دریں اثنا شام اور عراق کے لیے امریکا کے خصوصی صدارتی ایلچی ٹام بیرک نے کہا کہ ابوالظہور ملٹری ائیربیس پر اسرائیلی فضائی حملے غیر ضروری اشتعال انگیزی ہیں جن سے علاقائی استحکام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ امریکا کو ان حملوں پر گہری تشویش ہے۔
جنوبی لبنان میں دھماکا ، 2 اسرائیلی میجر ہلاک ، 4 اہلکار زخمی
علاوہ ازیں ترکیہ نے ابوالظہور فوجی ایئر بیس پر اسرائیلی فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ترک وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملے شام کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں۔ بین الاقوامی برادری شام کے خلاف اسرائیلی جارحیت میں اضافے پر فیصلہ کُن مؤقف اختیار کرے۔
