خلیجی ممالک نے ایران سےمتعلق امریکی صدرٹرمپ کی پالیسی پرشدید عدم اطمینان کا اظہارکردیا۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین ٹرمپ کی متضاد پالیسیوں سے نالاں ہیں،فوجی تنازع کےباوجود امن کے حصول میں ناکامی سے خلیجی ریاستوں کی تشویش بڑھ گئی۔بعض ممالک امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی جاری رکھنے کےجواز پر بھی سوال اٹھانے لگے۔
قطر کی ایرانی پائلٹس کو حراست میں رکھنے کی تردید
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف دباؤ بڑھانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جلد آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان کریں گے۔
فاکس نیوز سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران پر مزید سخت معاشی دباؤ ڈالنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ تہران کو جنگ ختم کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ ان کے مطابق ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے معاشی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
فاکس نیوز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو چکی ہے، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
President Donald Trump said he plans to declare the Strait of Hormuz a US territory after defeating Iran, though it is unclear if this signals a new policy https://t.co/oaV16dMUFV pic.twitter.com/2TiMxLWye8
— Reuters (@Reuters) August 14, 2026
آبنائے ہرمز کے بارے میں ٹرمپ کا تازہ بیان اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ یہ آبی گزرگاہ ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ اس سے متعلق امریکی اعلان خطے میں پہلے سے جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا کر رہا ہے۔
اس سے قبل امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی کہا تھا کہ واشنگٹن آئندہ ہفتے کے آغاز میں ایران کے خلاف ایسی سخت پابندیاں اور اقدامات نافذ کرنے کی تیاری کر رہا ہے جو اس سے پہلے نہیں دیکھے گئے۔
