اسلام آباد، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ حکومت بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائے تو پاکستان تحریک انصاف قائمہ کمیٹیوں میں واپس آ سکتی ہے، حکومت پارلیمنٹ کو برقرار رکھنا چاہتی ہے تو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا راستہ نکالے۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ ناصرعباس کا کہنا تھا کہ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو اپوزیشن سے بات کرے، پارلیمنٹ ہاؤس کے کانسٹیٹیوشن روم میں مذاکرات ہوں تو ہم تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق جان بوجھ کرابہام پیدا کیا جاتا ہے، جس کا مقصد پارٹی میں اختلافات پیدا کرنا بھی ہے، 26ویں آئینی ترمیم سے قبل عدالتی حکم پر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی تھی۔
راجہ ناصرعباس نے کہا کہ ملک میں عوام کی نمائندہ حکومت چاہتے ہیں، محسن نقوی نے سسٹم کولیپس کی جس بات کی نشاندہی کی وہ درست ہے تاہم جس مرض کی نشاندہی کی گئی ہے اس کی تجویز کردہ دوا غیرقانونی ہے۔
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرکا کہنا تھا کہ وہ جانتے ہیں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کیوں ناکام ہوئے، مذاکرات کیلئے بانی پی ٹی آئی کے پاس اڈیالہ جیل میں پورا پلان لے کرگئے تھے، اس سے قبل کے پی ہاؤس میں اجلاس بھی ہوا تھا۔
الیکشن کمیشن کا عوام پاکستان پارٹی کو ڈی لسٹ کرنے کا فیصلہ بلاجواز ہے، شاہد خاقان عباسی
ان کے مطابق وہ وزیراعظم ہاؤس جا کرحکومت کی پوزیشن کو قانونی جواز فراہم نہیں کرنا چاہتے تھے، اسی وجہ سے اسپیکر آفس میں بھی مذاکرات سے گریز کیا۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور پارٹی میں فرق سمجھتا ہوں اور آخری دم تک بانی کونہیں چھوڑوں گا، حکومت سنجیدہ ہے تو بات کرے، بانی سے ملاقات کے بعد پی ٹی آئی قائمہ کمیٹیوں میں واپس آنے پر غور کرسکتی ہے۔
