امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی موجودہ صورتحال سے متعلق سخت دعوے کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول برقرار رکھے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس اب نہ بحریہ ہے اور نہ فضائیہ، جبکہ ایرانی فوجیوں کی ایک بڑی تعداد کو تنخواہیں بھی نہیں مل رہیں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب تباہ ہوچکی ہے اور ایران کے پاس رقم بھی نہیں ہے۔ ان کے بقول ایران کا ملک تباہ ہوچکا ہے اور ایرانی قیادت صرف باتیں کرتی ہے، ان پر عمل نہیں کرتی۔
امریکی صدر نے ایران کی معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مہنگائی 300 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور حالات مزید خراب ہوتے جارہے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے اور اس کے پاس اپنی موجودہ صورتحال سے نکلنے کیلئے وسائل موجود نہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اس اہم آبی گزرگاہ پر مکمل کنٹرول برقرار رکھے گا۔
جنگ بندی کے آغاز کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی، توسیع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ایران
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کیلئے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، اس لیے خطے میں اس سے متعلق کسی بھی پیش رفت کے عالمی توانائی منڈیوں پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
یاد رہے کہ دوسری جانب ایران نے امریکا سے جنگ بندی میں توسیع سے متعلق خبروں کی تردید کردی تھی۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایرانی عہدیدار نے جنگ بندی میں توسیع کی خبروں کی ترید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران جنگ بندی میں توسیع سے متعلق کوئی مذاکرات نہیں ہورہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے آغاز کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی اس لیے توسیع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، امریکا نے عبوری معاہدہ طے پانے کے 48 گھنٹے بعد اس کی خلاف ورزی کی جبکہ امریکا عبوری معاہدہ طے پانے کے چند روز بعد معاہدے سے دستبردار ہو گیا تھا۔
