امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایرانی بہت چالاک مذاکرات کار ہیں، وہ کسی بات پر رضامند ہونے کے بعد باہر آکر کہتے ہیں کہ انہوں نے کبھی اس کی منظوری ہی نہیں دی تھی۔
امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی بحری ناکہ بندی جاری ہے جبکہ ایران میں مہنگائی 300 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پیسوں پر امریکا کا مکمل کنٹرول ہے اور وہ خود ایران کے ’’بینکر‘‘ ہیں، ان کے بقول ایران کسی سے قرض بھی نہیں لے سکتا۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکا نے ایران کو بہت سخت نشانہ بنایا ہے اور انہوں نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا، تاہم کوئی اس بارے میں بات نہیں کرتا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر وہ اقدامات نہ کرتے جو انہوں نے کیے تو ایران کے پاس اس وقت جوہری ہتھیار موجود ہوتے۔ ان کے بقول اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو لوگ ایرانیوں کو ’’جناب‘‘ کہہ کر مخاطب کررہے ہوتے۔
I see that Representatives of the Islamic Republic of Iran are asking for compensation for the damage done to them during the last five month Military Conflict (started because, THEY WILL NOT HAVE A NUCLEAR WEAPON), even though it was never mentioned in any of our negotiations or… pic.twitter.com/T16FLILFJB
— Commentary Donald J. Trump Truth Social Posts On X (@TrumpTruthOnX) August 10, 2026
امریکی صدر نے تیل کی قیمتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ قیمتیں بائیڈن انتظامیہ کے دور سے بھی کم ہیں اور اگر ایران جنگ ختم ہوجاتی ہے تو تیل کی قیمتیں مزید کم ہوجائیں گی۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا چین سے کافی آگے ہے۔ ونڈ انرجی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے امریکا کو ’’ونڈ مل جیسی فضول چیزوں‘‘ سے نجات دلائی جبکہ چین ونڈ ملز بناتا ہے لیکن انہیں استعمال نہیں کرتا۔
دوسری جانب ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ کئی دہائیوں کے معاشی دباؤ کے باوجود ایران کے جوہری عزائم ختم نہیں ہوئے تاہم اب کئی ماہ کی بمباری کے بعد ایران کی معیشت کو اس حد تک دباؤ میں لایا جاچکا ہے کہ تہران جوہری پروگرام ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو تیل و گیس بردار بحری جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھولنے کے امریکی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور ہوسکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ چونکہ ایران ممکنہ امن مذاکرات میں جنگی نقصانات کا معاوضہ مانگ رہا ہے، اس لیے امریکا بھی ایران سے معاوضے کا مطالبہ کرے گا۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران مالی طور پر دیوالیہ ہونے کے قریب ہے اور فوجیوں کو تنخواہیں دینے کے لیے بھی رقم نہیں۔
دوسری جانب ایران نے مزید امریکی پابندیوں کے امکان سے بظاہر دباؤ قبول کرنے کے آثار ظاہر نہیں کیے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ جب واشنگٹن سفارت کاری میں ناکام ہوتا ہے تو پابندیوں کی طرف واپس آتا ہے اور جب پابندیاں نتائج نہیں دیتیں تو ان کی شدت بڑھا دیتا ہے۔
امریکا نے مذاکرات کی بھیک مانگی ، ایران نے خود کو ناقابل شکست طاقت ثابت کیا ، عباس عراقچی
اے پی کے مطابق امریکی ہتھیاروں کے اہم ذخائر میں کمی اور امریکا ایران مذاکرات میں ایک بار پھر تعطل کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ معاشی دباؤ کے ذریعے پیش رفت کی امید کر رہی ہے۔
