دبئی: پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ امریکا نے آبنائے ہرمز میں مزید مداخلت کی تو اسے سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
رائٹرز کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران پر امریکی حملوں اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں امریکی مداخلت کے باعث اس اہم آبی گزرگاہ پر معمول کی بحری آمدورفت کی بحالی متاثر ہو رہی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران کی نگرانی میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری ٹریفک کی صلاحیت جنگ سے قبل کی سطح کے تقریباً 50 فیصد تک بحال ہو چکی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ فی الحال صرف انہی بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے جنہیں ایران کی جانب سے مقرر کردہ راستوں پر سفر کے لیے باقاعدہ اجازت نامہ جاری کیا گیا ہے۔
ایرانی بحریہ نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے آبنائے ہرمز میں مزید مداخلت کی تو اسے “سخت اور فیصلہ کن جواب” دیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ ایسی کارروائیاں نہ صرف بحری آمدورفت کی بحالی میں رکاوٹ بن رہی ہیں بلکہ ان ممالک کے معاشی مفادات کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں جو اس اہم بحری راستے سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار مختلف ممالک کو منتقل کی جاتی ہے، اور اس راستے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی کی منڈیوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران کی خبر رساں ایجنسی مہر نیوز کا کہناہے کہ ایران کے جنوبی علاقوں پر امریکا کے رات بھر جاری رہنے والے حملوں کے جواب میں ایران نے امریکی اہداف کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر کا آغاز کر دیا ہے۔
بی بی سی کے مطابق ایرانی حکومت سے منسلک اس خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ اسلامی پاسدارانِ انقلاب نے میزائل حملے کرتے ہوئے کویت میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
آؤ! ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں، ٹرمپ کی دھمکیوں پر ایران کا امریکا کو چیلنج
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر بھی میزائل حملے کیے گئے ہیں، خیال رہے کہ اردن کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ملک کی فضائی حدود میں آٹھ میزائل مار گرائے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ، خبر رساں ادارے کے مطابق بغداد، عراق میں واقع امریکی وکٹری بیس پر بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
