تل ابیب: اسرائیلی انٹیلیجنس نے ایرانی جوہری پروگرام پر اپنے ہی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دعوے کو مسترد کر دیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو اس وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب موساد اور اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس سمیت متعلقہ اداروں نے ایران کے جوہری پروگرام کی مکمل تباہی کے دعوے کی توثیق سے انکار کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم آفس نے انٹیلی جنس اداروں سے سرکاری مؤقف کی حمایت کرنے کی کوشش کی۔ تاہم حکام نے پیشہ ورانہ اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے غیر مصدقہ دعوے کی تائید سے گریز کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس اداروں نے نیتن یاہو کے دعوے کو دستیاب شواہد سے مطابقت نہ رکھنے والا قرار دیا۔ جس کے باعث وزیر اعظم آفس، موساد اور فوجی انٹیلی جنس کے درمیان اختلافات سامنے آئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مؤقف کی بھی توثیق چاہتے تھے کہ ایرانی جوہری پروگرام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ تاہم اسرائیلی سیکیورٹی اداروں نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: نیویارک ، امریکا کی یوم آزادی کی تقریب کے دوران فائرنگ ، 8 افراد زخمی
رپورٹس کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کو پہنچنے والے نقصان کی حتمی نوعیت اور حجم سے متعلق اب بھی کوئی مستند اور مکمل شواہد سامنے نہیں آئے ہیں۔
