ایران کی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بھارت کے دو تیل بردار بحری جہازوں کو روک دیا ہے، جن پر تقریباً 20 لاکھ بیرل عراقی تیل لدا ہوا تھا۔
عرب میڈیا نے دعویٰ کیا گیا ہے کہ آئل ٹینکرز کو روکنے کے دوران ایرانی گن بوٹس نے فائرنگ بھی کی، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
پاسداران انقلاب کے مطابق یہ اقدام امریکی ناکہ بندی کے جواب میں کیا گیا ہے، جسے ایران نے اپنی بندرگاہوں پر“غیر قانونی بحری دباؤ” قراردیا ہے۔
ایرانی فوج کے یومِ قیام پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، مجتبیٰ خامنہ ای
ایرانی بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی نگرانی اور انتظامی کنٹرول ایرانی افواج کے پاس ہے اور جب تک امریکی پابندیاں ختم نہیں ہوتیں، بحری آمدورفت پر سخت کنٹرول برقرار رہے گا۔
رپورٹس کے مطابق اس سے ایک روز قبل ایران نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا اعلان کیا تھا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھنے کے بیان کے بعد صورتحال دوبارہ کشیدہ ہوگئی ہے، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی ترسیل پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
