کارپوریٹ نوکری چھوڑ کر فوڈ ڈیلیور کرنے والا بھارتی نوجوان سوشل میڈیا پر وائرل


بھارتی شہر بنگلورو میں ایک نوجوان کے سالانہ 25 لاکھ روپے کی کارپوریٹ نوکری چھوڑ کر فوڈ ڈیلیوری رائیڈر بننے کے انوکھے فیصلے نے سوشل میڈیا پر سب کو حیران کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اینجی وی نامی صارف نے بتایا کہ اس کے دوست نے شادی کی تیاری، نئی گاڑی اور گھریلو دباؤ کے باوجود چند ہفتوں کے لیے فوڈ ڈیلیوری کا کام شروع کیا تاکہ وہ اپنے علاقے میں لوگوں کی کھانے کی پسند ناپسند کو بہتر طور پر سمجھ سکے۔

نوجوان آئندہ دنوں میں کلاؤڈ کچن شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس مقصد کے لیے اس نے یہ عملی تحقیق کی۔

ڈیلیوری کے دوران حاصل کیے گئے تجربے کی بنیاد پر اس نے 12 ایسے کھانوں کی نشاندہی کی ہے جو کم لاگت اور زیادہ فروخت کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے مطابق وہ کلاؤڈ کچن تین سے چار ماہ میں اخراجات پورے کر سکتا ہے۔

تاہم اس فیصلے پر نوجوان کو شدید سماجی دباؤ کا سامنا ہے۔ خاندان اس فیصلے کے سخت خلاف ہے جبکہ دوست احباب کی جانب سے مذاق بھی بنایا جا رہا ہے۔ ایک موقع پر سوسائٹی کے عملے نے انہیں ڈیلیوری یونیفارم میں لفٹ استعمال کرنے پر ڈانٹ بھی دیا۔

اس کے باوجود سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے نوجوان کے حوصلے اور جرات کو سراہا ہے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ یہ حقیقی کاروباری سوچ اور عملی مارکیٹ ریسرچ کی بہترین مثال ہے۔


متعلقہ خبریں
WhatsApp