روس اور یوکرین نے ایک دوسرے کے 1200 جنگی قیدیوں کے تبادلے پراتفاق کر لیا ہے۔
استنبول میں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد روسی وفد کے سربراہ ولادیمیر میڈنسکی نے میڈیا کو بتایا کہ قیدیوں کیساتھ ساتھ عام شہریوں کی رہائی اورتبادلے پربھی بات چیت ہوئی ہے۔
2016 کے امریکی انتخابات میں روسی مداخلت ، ٹرمپ نے باراک اوباما کو غدار قرار دیدیا
مذاکرات کا یہ دورتقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا، جس میں روس نے زخمیوں کے انخلا اورہلاک ہونے والے فوجیوں کی لاشوں کی واپسی کے لیے 24 یا 48 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی کی تجویز دی۔
روسی وفد کے مطابق یہ تجاویزانسانی بنیادوں پر پیش کی گئیں تاکہ دونوں جانب متاثرین کو فوری مدد فراہم کی جا سکے۔
ولادیمیرمیڈنسکی نے واضح کیا کہ روسی صدرولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدرولودومیرزیلنسکی کے درمیان براہِ راست ملاقات سے قبل کسی امن معاہدے پر اصولی اتفاق ضروری ہے۔
فریقین نے مذاکرات کے جاری رکھنے پرآمادگی ظاہر کی ہے تاکہ جنگ کے خاتمے کی جانب پیش رفت ممکن ہو سکے، بین الاقوامی برادری نے قیدیوں کے تبادلے اورجنگ بندی کی تجاویزکا خیرمقدم کیا ہے۔
