سرکاری یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی نہ ہونے کی وجہ سامنے آگئی


اسلام آباد(ابوبکر خان، ہم انویسٹی گیشن ٹیم)ملک بھر کی بیشتر سرکاری یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلرز کی محرومی کی وجہ سامنے آگئی۔

ہم انوسٹی گیشن ٹیم نے ملک بھر کی بیشتر سرکاری یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلرز کی عدم تعیناتی کی تفصیلات حاصل کر لی۔ ہم انویسٹی گیشن ٹیم نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن، وزارت تعلیم اور متعلقہ صوبوں کے گورنرز کے قریبی ذرائع سے مستقل وائس چانسلرز کی عدم تعیناتی کی خصوصی تفصیلات حاصل کی ہے۔

نادرا نے ارجنٹ درخواست پر شناختی کارڈ ڈلیوری کی مدت 23 سے کم کر کے15 دن کردی

ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ سیاسی عدم استحکام اور صوبہ پنجاب اور پختونخوا کے گورنرز کی مبینہ سیاسی مداخلت میں اس اہم مسئلے کو پس پشت ڈال دیا ہے۔  سیاست کی آڑ میں بیشتر سرکاری یونیورسٹیوں کے انتظامی امور مستقل وائس چانسلرز کی عدم تعیناتی سے شدید متاثر ہورہے ہیں۔

سرکاری یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلرز کی مستقل تعیناتی کے حوالے سے آل پبلک یونیورسٹیز بی پی ایس ٹیچر ایسوسی ایشن نے سرکاری یونیوسٹیوں میں مستقل وائس چانسلرز کی تعیناتی کے لئے سپریم کورٹ میں پٹیشن بھی دائر کردی ہے۔

پٹیشن کے مطابق قانون کے تحت یونیورسٹیوں کی سنڈیکیٹس، سینیٹ، بورڈ آف گورنرز، اکیڈمک کونسل وغیرہ کے باقاعدہ اجلاس بلانے کی ضرورت ہے، بورڈ آف گورنرز، سنڈیکیٹ یا ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس نہ ہونے کیوجہ سے یونیورسٹیاں مستقل وائس چانسلرز سے محروم ہیں۔

پٹیشن میں مزید بتایا گیا ہے کہ مسقل جس وائس چانسلرز کی عدم تعیناتی کا مقصد یونیورسٹیوں کے اندر داخلی جمہوریت کو یقینی بنانا اور آمرانہ طرز حکمرانی کے ماڈلز کو پیدا ہونے سے روکنا ہے، یونیورسٹیوں میں زیادہ تر ڈینز اور ڈائریکٹرز قائم مقام تعینات ہیں، جس کی وجہ سے انتظامی امور مشکلات کا شکار ہیں۔

وائس چانسلرز کی عدم تعیناتی سے حکام غیر قانونی کام کے مرتکب ہورہے ہیں۔ ایسے غیر قانونی کاموں کی وجہ سے آئین کے تحت سرکاری یونیورسٹیوں کے تعلیمی آزادی کو خطرات لاحق ہے۔ یونیورسٹیوں کے انتظامی امور مستقل وائس چانسلرز کے بغیر نہیں چل سکتیں۔ قائم مقام وی سیز کی تعیناتی آرٹیکل 4، 9 اور 19 کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

افسر شاہی کی غفلت، کروڑوں روپے کی گندم ضائع ہونے کا خدشہ

پٹیشن کے مطابق مستقل وائس چانسلرز کی تعیناتی کا عمل قانون کی روح کے خلاف ہے جس کا تقاضا ہے کہ ایسی ہر پوسٹ مدت ملازمت پر مبنی ہو۔ یونیورسٹی میں کلیدی عہدے پر تعینات شخص جسے اپنی پوسٹنگ اور مدت کے بارے میں یقین نہ ہو وہ تعلیمی آزادی کو یقینی نہیں بنا سکتا ہے۔

خودمختاری کے بغیر یونیورسٹیز کا تعلیم دینا بے معنی ہے کیونکہ اساتذہ طلباء کو آزادانہ اور بغیر کسی دباؤ اور جبر کے پڑھانے کے قابل نہیں ہوں گے۔ واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کی 24 یونیورسٹیاں، پنجاب 32، سندھ کی چھ اور بلوچستان کی دو یونیورسٹیوں میں اس وقت قانون کے مطابق وائس چانسلرز نہیں ہیں۔ ایچ ای سی اور وزارت تعلیم کے حکام نے مستقل وائس چانسلرز کی تعیناتی کو اٹھارویں ترمیم کے بعد خالصتا صوبوں کی صوابدید قرار دیا ہیں۔

 


متعلقہ خبریں