اڈیالہ جیل میں دہشتگردی کا خدشہ ، عمران خان سمیت تمام قیدیوں سے ملاقاتوں پر پابندی

عمران خان

اڈیالہ جیل کو دہشتگردوں کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کے خدشے پر بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت تمام قیدیوں سے ملاقاتوں پر 2 ہفتے کے لیے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

سابق چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات پر پابندی کا فیصلہ محکمہ داخلہ پنجاب نے کیا ، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سمیت دیگر سیاسی شخصیات سابق چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کر چکے ہیں ،عدالتی احکامات پر جیل انتظامیہ نے منگل اور جمعرات کا دن ملاقاتوں کے لیے مختص کر رکھا تھا۔

وکلاء کو عمران خان سے ملاقات کرنے سے نہیں روکا جائے گا، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل

ذرائع کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے جیل کے گیٹ نمبر 5 کے سامنے میڈیا کوریج پر بھی پابندی عائد کر دی۔

علاوہ ازیں محکمہ داخلہ پنجاب نے آئی جی جیل خانہ جات  پنجاب کو 2 ہفتوں کے لیے دیگر قیدیوں اور حوالاتیوں سے ملاقات اور جیل وزٹ پر پابندی عائد کرنے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں ۔

محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیز نے سینٹرل جیل اڈیالہ کے حوالے سے تھریٹ الرٹ سے آگاہ کیا ہے۔

اڈیالہ جیل کو بڑی تباہی سے بچا لیا گیا، 3 دہشتگرد گرفتار

ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ نے اسپیشل برانچ ،انٹیلجنس بیورو اور محکمہ جیل خانہ جات کے عملے کے ذریعے جیل کے اندر 13 مارچ کو سیکورٹی سروے (سرچ آپریشن) کروانے، جیل کی باؤنڈری وال پر خار دار لگانے  اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیم سے جیل کے اندر اور گرد و نواح میں اسکریننگ کروانے کا بھی حکم دیا ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف کو اسپیشل خوراک دی جاتی ہے، ترجمان محکمہ جیل خانہ جات پنجاب

جیل میں کام کرنے والے سرکاری ٹھیکیداروں ،عملے کی سکیورٹی کلئیرنس کرانے ، پولیس  اور رینجرز  کے ذریعے فرضی ہنگامی مشقیں اور کلیرنس آپریشن کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

 


متعلقہ خبریں