وزیر اعلٰی سندھ کی پولیس پر تنقید، وجوہات سامنے آ گئی

February 12, 2019

کراچی :وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے پولیس کے خلاف سندھ اسمبلی میں دھواں دھار تقریر کے پیچھے چھپے عوامل سامنے آ گئے ہیں۔

اس ضمن میں ہم نیوز کو ذرائع سے موصول اطلاعات کے مطابق وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے ارشاد رانجھانی کے قتل کا مقدمہ پولیس اہلکاروں کے خلاف درج کرنے کے لئے اعلی پولیس افسران سے رابطہ کیا ۔

وزیراعلی سندھ ڈی ایس پی ملیر سٹی شوکت شاہانی سمیت دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کروانے کے خواہش مند تھے،جس کے جواب میں اعلی پولیس افسران نے کہا کہ ڈی ایس پی پر اس کیس میں فی الحال کوئی الزام نہیں ہے،ان کے خلاف تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی گئی ہے ، اگر کوئی الزام ثابت ہوا تو ضرور ایکشن لیں گے۔

ذرائع کے مطابق سندھ حکومت شہر میں اپنے من پسند پولیس افسران کو تعینات کرانا چاہتی ہے،اعلی پولیس افسران کی جانب سے ان افسران کی تعیناتی کی مخالفت کی جارہی ہے۔

واضح رہے  سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران معاملے پر سندھ پولیس کے کردار پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک کونسلر نے پانچ گولیاں چلائیں اور پولیس نے اس کا ساتھ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب کام کرنے کا کہو تو پولیس والے کہتے ہیں ہم پر دباؤ ڈال رہے ہیں، پولیس سے اللہ کا خوف ختم ہو گیا ہے۔

’پولیس والے بتارہے ہیں کہ ارشاد کے خلاف ایف آئی آر درج ہے، میں نے کہا کہ پھر جس جس پر ایف آئی آر ہے اسے گولی مار دیں؟ میں نے آئی جی اور ڈی آئی جی کو سخت احکامات جاری کیے ہیں۔‘

مراد علی شاہ نے کہا کہ ایک کونسلر نے پانچ گولیاں ماریں اور پولیس نے اس کا ساتھ دیا، جو پولیس والے اس قتل میں ملوث ہیں ان کو اس ایوان کی مدد سے گرفتار کروانا چاہتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو میں اپنی مدعیت میں ایف آئی آر کٹواؤں گا، پولیس افسران کی سوچ کو تبدیل کرنا پڑے گا۔

یاد رہے کراچی کے علاقے بھینس کالونی میں ارشاد رانجھانی کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔

اس واقع کی جب وڈیو سامنے آئی اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو حکام اور پولیس جاگی جس کے بعد رحیم شاہ کو گرفتار کیا گیا۔

تھانہ شاہ لطیف ٹاؤن میں مقدمہ ارشاد رانجھانی کے بھائی خالد رانجھانی کی مدعیت میں درج ہوا۔

مقدمہ میں یو سی چئیرمین رحیم شاہ اور ڈی ایس پی شوکت شاہانی سمیت چار افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ اور قتل کی دفعات کے تحت درج ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز