گزشتہ روز نواز شریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں العزیزیہ ریفرنس کے خلاف اپیل جمع کرائی جس میں سزا کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے
آج کل نیب کے خلاف سخت اور منظم پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، جسٹس (ر) جاوید اقبال
پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین شہبازشریف کی صدارت میں ہو رہا ہے
سابق وزیر اعظم نواز شریف کو فلیگ شپ ریفرنس میں بینیفٹ آف ڈاؤٹ کے تحت بری کیا گیا
میاں جاوید وائس چانسلر تھے نہ پروفیسر،ان کے کیس میں کئی عدالتی احکامات شامل تھے۔
آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں حمزہ شہباز کو اپنے اکاؤنٹ میں مشکوک ٹرانزیکشنز پر موقف دینا تھا
قومی احتساب بیورو(نیب) کے ہاتھوں گرفتار ایک اور ملزم چل بسا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ریونیور ایل ڈی اے محمد سلیم کیمپ جیل میں کرپشن کےجرم میں گرفتارتھے۔
19 دسمبر 2018 کو فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا اور سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق احتساب عدالت 24 دسمبر کو العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کا فیصلہ سنائے گی
استغاثہ نے دلائل دیے کہ پیراگون کے اکاؤنٹس سے ڈائریکٹ 6 اعشاریہ 2 ملین روپے خواجہ سعد رفیق کے اکاونٹ میں آئے ہیں
مریم اورنگزیب نے کہا کہ میاں جاوید کے معاملے میں مجرمانہ غفلت سامنے آنے کے بعد نیب نے شہبازشریف کی طبی معائینے کی درخواست کو پر لگادئیے ہیں
نیب نے اکتوبر 2018 میں آشیانہ اسکینڈل کیس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو گرفتار کیا تھا جو تاحال زیر تفتیش ہیں
بابل بھیو سمیت دیگر ملزمان پر چار کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد کی کرپش کا الزام ہے۔
ذرائع کے مطابق ملزم ثقلین گیلانی سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا قریبی رشتہ دار ہے
نیب راولپنڈی نے ای پی آئی کے اعلی عہدیدار کے گھر پر چھاپہ مار کرایک کروڑ 88 لاکھ کی نقدی برآمد کرلی ہے
سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک، وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان، سینیٹر محسن عزیز پہلے ہی نیب کے سامنے پیش ہوکر اپنے بیان جمع کرواچکے ہیں














