کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں آخری دہشتگرد کی موجودگی تک جنگ جاری رہے گی، دہشت گردی کے خلاف سول اور عسکری قیادت متفق اور یکسو ہے، اس معاملے پر کوئی ابہام یا کنفیوژن نہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صحافیوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز مشکل حالات میں فرائض انجام دے رہی ہیں، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاستی ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ جبکہ ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں سے کسی صورت بات چیت نہیں ہو گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ کوئٹہ سے بیٹھ کر پورے صوبے کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں۔ بلوچستان میں اگر نئے صوبے بنتے ہیں تو لسانی نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر بننے چاہییں۔
میر سرفراز بگٹی نے منصوبوں سے متعلق لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بلوچستان میں کسی ڈھائی ڈھائی سالہ حکومتی معاہدے کا علم نہیں۔ اور حکومت میں تبدیلی کا فیصلہ سیاسی قیادت نے کرنا ہے تاہم جب تک وہ منصب پر ہیں عوام کی خدمت جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کرپشن کے مکمل خاتمے کا دعویٰ نہیں کرسکتا، تاہم بلوچستان میں ماضی کے مقابلے میں کرپشن میں کمی ضرور آئی ہے۔ تعلیمی اداروں سمیت تمام سرکاری محکموں میں میرٹ پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے ماضی کے مقابلے میں ریکارڈ مدت میں مکمل کیے گئے ہیں، جبکہ صوبائی حکومت کی توجہ ترقیاتی عمل کو مؤثر، نتیجہ خیز اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے پر مرکوز ہے۔
انہوں نے غیر ملکی شہریوں کی واپسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان سے 11 لاکھ افغان مہاجرین سمیت دیگر غیر ملکیوں کو ان کے وطن واپس بھیجا گیا ہے۔
لاپتہ افراد کے معاملے پر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اس مسئلے کو قومی میڈیا اور دیگر فورمز پر کبھی کبھار درست تناظر کے بغیر بھی پیش کیا جاتا رہا ہے، جس سے صورتحال کی درست تصویر سامنے نہیں آتی۔
انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کسی ایک صوبے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے اور اس کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
اس سے قبل وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں صوبے کے سماجی و اقتصادی شعبوں، معدنیات و کان کنی اور امن و امان سے متعلق اہم بریفنگز بھی ہوئیں، جن میں صوبائی حکومت کی حکمت عملی، جاری منصوبوں اور عوام کو فراہم کیے جانے والے ثمرات کا جائزہ لیا گیا۔
وزارت منصوبہ بندی و ترقی کی بریفنگ میں صوبائی حکومت کی سماجی و اقتصادی شعبوں سے متعلق حکمت عملی، گورننس، سروس ڈیلیوری، ترقیاتی فنڈز کے مؤثر استعمال اور ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔
وزارت معدنیات و وسائل کی بریفنگ میں بلوچستان میں معدنیات اور کان کنی کے شعبے کی استعداد، جاری منصوبوں اور شعبے کی ترقی کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔
وزارت داخلہ و قبائلی امور کی جانب سے امن و امان کی صورتحال، پروونشل ایکشن پلان، پولیس اصلاحات اور لیویز فورس کے پولیس میں انضمام سے متعلق پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔ سیف سٹی منصوبے، قانون سازی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کے حوالے سے بھی وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا۔


