بیجنگ، چین کے جنوب مشرقی صوبے فوجیان کے صنعتی شہر جن جیانگ میں جوتے بنانے والی ایک فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں کم از کم 28 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق آگ جمعرات کی دوپہر کے وقت فیکٹری کی گراؤنڈ فلور پر بھڑکی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
آگ کے باعث متعدد افراد عمارت کی چھت پر پھنس گئے، جنہیں بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا، سرکاری طور پر ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد فوری طور پر جاری نہیں کی گئی۔
ٹیلی وژن پرنشر ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کئی منزلہ فیکٹری سے آگ کے بلند شعلے اور سیاہ دھویں کے بادل اٹھ رہے تھے جبکہ چھت پر موجود افراد امداد کے منتظر دکھائی دے رہے تھے۔
مقامی فائر حکام کے مطابق شام تک کھلی آگ پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا تھا تاہم کولنگ اورسرچ آپریشن جاری رہا، ریسکیو کارروائیوں میں 183 اہلکاروں اور 35 فائر فائٹنگ گاڑیوں نے حصہ لیا۔
مسافر طیارے آپس میں ٹکرا گئے،کوئی جانی نقصان نہیں ہوا
ابتدائی تحقیقات کے مطابق آگ فیکٹری کے نچلے حصے سے لگی، جہاں جوتے بنانے میں استعمال ہونے والا خام مال اور چپکنے والے کیمیکل بڑی مقدار میں موجود تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ آتش گیر مواد آگ کے تیزی سے پھیلنے کی بڑی وجہ بنا، جبکہ کیمیکلز کے باعث علاقے میں شدید بدبو اور دھواں پھیل گیا جس سے امدادی کارکنوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سانحے میں بھاری جانی نقصان کا خدشہ ہے۔
انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ پھنسے ہوئے افراد کو بچانے، زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے اور واقعے کی مکمل تحقیقات یقینی بنائی جائیں۔
شی جن جیانگ شہر چین کی جوتوں اور ملبوسات کی صنعت کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے اور اسے ملک کا “شوز کیپیٹل” بھی کہا جاتا ہے۔
