بیجنگ، چین کے جنوب مشرقی صوبے فوجیان کے صنعتی شہر جن جیانگ میں جوتے بنانے والی ایک فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں کم از کم 28 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق آگ جمعرات کی دوپہر کے وقت فیکٹری کے گراؤنڈ فلور پر بھڑکی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
آگ کے باعث متعدد افراد عمارت کی چھت پر پھنس گئے، جنہیں بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا، سرکاری طور پر ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد فوری طور پر جاری نہیں کی گئی۔
A fire broke out at a footwear factory in east China’s Fujian Province on July 9, causing major casualties and leaving several people trapped on a building rooftop. pic.twitter.com/bKhU6C58hh
— CCTV+ (@CCTV_Plus) July 9, 2026
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کئی منزلہ فیکٹری سے آگ کے بلند شعلے اور سیاہ دھویں کے بادل اٹھ رہے تھے جبکہ چھت پر موجود افراد امداد کے منتظر دکھائی دے رہے تھے۔
مقامی فائر حکام کے مطابق شام تک کھلی آگ پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا تھا تاہم کولنگ اورسرچ آپریشن جاری رہا، ریسکیو کارروائیوں میں 183 اہلکاروں اور 35 فائر فائٹنگ گاڑیوں نے حصہ لیا۔
晋江火灾
7月9日,福建泉州晋江,一鞋厂发生巨大火灾,多人被困楼顶,网友拍到有人被铁窗困在长厂房内,有人从楼上跳下,现场发现数名遇难者。 pic.twitter.com/KfMLzghEha— 李老师不是你老师 (@whyyoutouzhele) July 9, 2026
ابتدائی تحقیقات کے مطابق آگ فیکٹری کے نچلے حصے سے لگی، جہاں جوتے بنانے میں استعمال ہونے والا خام مال اور چپکنے والے کیمیکل بڑی مقدار میں موجود تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ آتش گیر مواد آگ کے تیزی سے پھیلنے کی بڑی وجہ بنا، جبکہ کیمیکلز کے باعث علاقے میں شدید بدبو اور دھواں پھیل گیا جس سے امدادی کارکنوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں:مسافر طیارے آپس میں ٹکرا گئے،کوئی جانی نقصان نہیں ہوا
چینی صدر شی جن پنگ نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سانحے میں بھاری جانی نقصان کا خدشہ ہے۔
انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ پھنسے ہوئے افراد کو بچانے، زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے اور واقعے کی مکمل تحقیقات یقینی بنائی جائیں۔
شی جن جیانگ شہر چین کی جوتوں اور ملبوسات کی صنعت کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے اور اسے ملک کا “شوز کیپیٹل” بھی کہا جاتا ہے۔
