خیبر پختونخوا میں بارشیں، مختلف حادثات میں جاں بحق افراد کی تعداد 35 ہو گئی

بارش اور برفباری

پشاور سمیت خیبر پختونخوا میں آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں اور پہاڑوں پر برف باری کا امکان ہے۔ گزشتہ روز سب سے زیادہ بارش تیمر گرہ میں 138 ملی میٹر ریکارڈ ہوئی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران پشاور، مردان، نوشہر ہ، چارسدہ، چترال، دیر،سوات، شانگلہ،بونیر، مالاکنڈ، کوہستان، بٹگرا م،تورغر، مانسہرہ، ہری پور، ایبٹ آباد، مہمند، باجوڑ،صوابی، کرک، کوہاٹ، ہنگو، بنوں، اورکزئی،کرم، لکی مروت، ٹانک، ڈی آئی خان، شمالی و جنوبی وزیر ستان میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارشوں اور پہاڑوں پر برف باری کا امکان ہے۔

بارشوں اور برف باری کے باعث بالائی اضلاع میں لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی اور سیلاب کا خدشہ ہے، محکمہ موسمیات نے بالائی اضلاع سفر کرنے والے سیاحوں کو محتاط رہنے کی ہدایات دی ہیں۔

دوسری جانب دیر بالا کے علاقوں میں شدید برفباری سے راستوں کی بندش کی وجہ سے تعلیمی ادارے 8 مارچ تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔دیر بالا میں بارش اور برفباری کا سلسلہ تھم چکا ہے، دیر بالا، لواری ٹنل کمراٹ بن شاہی و دیگر بالائی علاقوں میں 7 فٹ تک برفباری ریکارڈ کی گئی۔

دیر بالا،گاڑیاں، دکانیں اور مکانات برف میں دھنس گئے، بالائی علاقوں کی رابطہ سڑکیں بند اور بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا، ڈپٹی کمشنر دیر بالا کا کہنا ہے کہ سڑکوں سے برف ہٹانے اور بجلی بحالی پر کام جاری ہے، عوام اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ بارش اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ افراد کے لئے امدادی سامان بھیج دیاگیا ہے، بٹگرام، کوہستان اپر، باجوڑ کے لئے امدادی سامان کے 9 ٹرک بھیجے گئے جن میں رضائیاں، خیمے اور کمبل شامل تھے۔

واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں بارشوں نے تباہی مچادی، 3 دن میں مختلف حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 35 جبکہ  43 افراد زخمی ہوئے۔

پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا نے بارش کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور گھروں کی چھتیں گرنے کی تفصیلات جاری کردیں۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق افراد میں 25 بچے، 7 خواتین اور3 مرد شامل ہیں،مکان کی چھتیں گرنے سے باجوڑ میں 8، سوات میں 7اورخیبر میں 6 افراد جاں بحق ہوئے۔

مسلسل بارشوں کے باعث 46 گھر مکمل تباہ ہو گئے، 346 کو جزوی نقصان پہنچا، مختلف اضلاع میں بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 76 مویشی ہلاک ہوئے۔

بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کئی سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچا۔


متعلقہ خبریں