سپریم کورٹ بلے کا نشان بحال نہیں کرتی توامید وار آزاد حیثیت سے الیکشن میں جائیں گے، بیرسٹر گوہر

انتخابی منشور

پاکستان تحریک انصاف کے سابق چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سے بلا لے کر الیکشن کی شفافیت پر سوالیہ نشان آئے گا۔

اپنے بیان پر قائم ہوں،دانیال عزیز نے پارٹی شوکاز نوٹس مسترد کر دیا

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جائیں گے۔اگر سپریم کورٹ نشان بحال نہیں کرتی توامید وار آزاد حیثیت سے الیکشن میں جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر صاف و شفا ف الیکشن نہیں کرائیں گے تو معیشت بھی خراب ہو گی۔

اسلام آباد اور گردونواح میں زلزلہ

مزید بولے کہ ایسے الیکشن سے جو بھی حکومت آئے گی اس کی شفافیت پر سوال اٹھے گا۔میرے کل آئی ایم سے کوئی میٹنگ نہیں ہوئی ،ہم نے آئی ایم ایف کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے بتایا0 کہ آئی ایم ایف کو یہ نہیں کہا ہے کہ اپنی سپورٹ واپس لے لیں گے ،جب ملک میں جمہوریت نہیں ہوگی تو معیشت کو کیسے مستحکم کریں گے۔

رواں ہفتے کئی علاقے شدید دھندکی لپیٹ میں رہیں گے ، محکمہ موسمیات

آئی ایم ایف کے بیان کے حوالے سے تصدیق کرنا چاہیے تھی ۔ہم الیکشن کے بائیکاٹ کی طرف نہیں جائیں گے ،الیکشن کمیشن بلے کا نشان نہ دے کوئی اور نشان بھی دے دے۔

انتخابات میں امیدواروں کے پاس نشان ہونا چاہیے ،بلے کا نشان نا دئیے جانے سے جمہوریت کا نقصان ہو گا۔

بٹ کوائن کی قیمت 45 ہزار ڈالر سے تجاوز

بلے کا نشان نہ ملنے سے ووٹر بھی کنفیوژن کا شکار ہو گا ،اگر ہم سے نشان لیا جاتا ہے تو پلان بی کی طرف جائیں گے ۔

سیاسی جماعتیں مذاکرات کرتی رہتی ہیں اور ہونا بھی چاہیے ،ہم ان کے خلاف انڈر 19پلیئرلائیں گے یہ ان سے بھی ڈر رہے ہیں۔


متعلقہ خبریں