فخر ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حصہ ہیں، وزیراعظم پاکستان


بیجنگ: وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہاہے کہ ہمیں  فخر ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حصہ ہیں۔

بیجنگ میں موجود پاکستانی صحافی محمد عمران کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب میں 5بنیادی نکات پر بات کی ۔ عمران خان نے سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ ڈیم بنانے کے ساتھ ساتھ  سیاحت ، تعلیم اور صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کریں۔

عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا  کہ سی پیک کا پہلا فیز مکمل ہوچکاہے سی پیک اب دوسرے فیز میں داخل ہوچکاہے ۔ عمران خان نے کہا کہ پاک چین تعاون صرف سی پیک تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نےبیجنگ میں بیلٹ اینڈ روڈ  فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان فری تجارت معاہدہ عمل میں آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے پاکستان میں توانائی کے بحران میں کمی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسرے بیللٹ اینڈ روڈ فورم میں شرکت پر خوشی محسوس کررہا ہوں۔پاکستان کو فخر ہے کہ وہ اس منصوبے کا حصہ ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ چین کے تعاون سے گوادر کمرشل حب میں تبدیل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سی پیک کے اگلے فیز کی طرف بڑھ رہے ہیں جس میں اسپیشل اکنامک زونز کا قیام عمل میں آئے گا۔

عمران خان نے کہا کہ پاک چین فری تجارت معاہدہ عمل میں آرہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر چیلنج میں پاک چین دوستی ناقابل تسخیر ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاروں کو پرکشش مواقع فراہم کررہا ہے۔ انہوں نے تمام شرکا کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔

انہوں نے کہا کہ غربت کے خاتمے کے لیے پاکستان میں احساس نام سے پروگرام شروع کیا ہے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے خیبر پختونخوا میں پانچ ارب درخت لگائے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اب دس ارب درخت لگانے کے منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وائٹ کالرکرائم ہی تمام ترقیاتی کاموں کو برباد کرتا ہے  اور پاکستان اس کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کررہا ہے۔

بیجنگ میں بیلٹ اینڈ روڈ فورم کی سائیڈ لائن پر منعقد ہونے والے ڈائیلاگ میں چیئرمین سی پیک کمیٹی سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ سی پیک کی مدد سے تاحال 70 ہزار پاکستانیوں کو ملازمت ملی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور پاکستان کی ترقی کا ضامن ہے۔

میئر اسلام آباد شیخ عنصر نے سائیڈ لائن پر منعقد ہونے والے ڈائیلاگ میں کہا کہ سی پیک کی مدد سے پاکستان میں توانائی کا بحران ختم ہوگا اور ملازمت کے نئے مواقع ملیں گے۔

ترقی پذیر ممالک کی دیرپا ترقی از حد ضروری ہے، شی چن پنگ

چین کے صدر شی چن پنگ نے ’بیلٹ اینڈ روڈ فورم‘ کو رابطوں کو مضبوط کرنے کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کی دیرپا ترقی نہایت ضروری ہے۔

انہوں نے یہ بات بیجنگ میں بیلٹ اینڈ روڈ فورم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور روس کے صدر ولادی میر پیوٹن سمیت دیگر عالمی شخصیات بھی اس فورم سے خطاب کریں گے۔

چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا کہ  ترقی پذیر ممالک میں پائیدار ترقی کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقی کے لیے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تجارت کے فروغ کے لیے آزاد تجارتی معاہدوں کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیلٹ اینڈ روڈ فورم تمام شریک ممالک کو یکساں مواقع فراہم کرتا ہے۔

چینی صدر نے کہا کہ دوسرے ممالک کی مصنوعات کا چینی منڈیوں میں خیرمقدم کرتے ہیں اور سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے شراکت داروں سے مل کر کام کررہے ہیں۔

شی جن پنگ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں پائیدار ترقی کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ گلوبل ٹریڈ کیلئے نیا پلیٹ فارم ہے، ہم سب مل کر اس منصوبے سے مستقبل کو روشن بنا سکتے ہیں۔

چینی صدر کا کہنا تھا کہ گلوبل پارٹنر شپ ،ٹریڈ ، سرمایہ کاری اور لبرلزم کو فروغ دینے ضرورت ہے، شنگھائی امپورٹ ایکسپو سے بیلٹ اینڈ روڈ شراکت دار ملکوں کیلئے بھی نئے مواقع کھلیں گے

انہوں نے بتایا کہ شراکت دار ملکوں کے ساتھ تعلیم، سائنس، کلچر، سیاحت، صحت اور آرکیالوجی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جارہا ہے اور بیلٹ اینڈ روڈ سٹڈی سینٹر اور نیوز الائنس بھی قائم کیے جاچکے ہیں۔

روسی صدرپیوٹن کا تقریب سے خطاب

روس کے صدر ولادی میرپوٹن نے دوسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ فورم علاقائی ترقی کیلیے اہم ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ شاندارمشترکہ مستقل کیلیےاجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔

پیوٹن نے اپنے خطاب میں کہا کہ مالیاتی اورکرنسی پالیسی کے استحکام کیلئے چین کے ساتھ مل کر کام جاری ہے، صنعتی ترقی کو فروغ دینے کیلئے مناسب اقدامات ضروری ہے۔

انہوں نے دہشتگردی اورانتہاپسندی کے خاتمے کیلئےعالمی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا اور دوسرے ممالک کی آزادی اورخود مختاری کا احترام کرنے کی  تاکید کی۔

روسی صدر نے کہا بیلٹ اینڈ روڈ فورم علاقائی روابط استوار کرنے، سماجی واقتصادی ترقی، تجارت، پالیسیوں میں مطابقت پر تبادلہ خیال کرنے اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:وزیر اعظم عمران خان چار روزہ دورے پر چین پہنچ گئے

فورم میں 40 ممالک کے رہنما اور 100 سے زائد ممالک و بین الاقوامی تنظیموں اور کارپوریٹ سیکٹر کے نمائندگان شرکت کررہے ہیں۔


متعلقہ خبریں