لاہور،کراچی: ینگ ڈاکٹرز کی پھر احتجاج کی دھمکی

 کراچی/لاہور: لاہور اور کراچی کے ینگ ڈاکٹرز نے ایک بار پھر احتجاج کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی سندھ کے مطابق سندھ حکومت نے تنخواہوں میں اضافے سے متعلق اپنے وعدوں پرعملدرآمد نہیں کیا۔ سات روز میں تنخواہوں کے اضافہ کا نوٹفیکشن جاری کیا جانا تھا جو ابھی تک نہیں کیا گیا۔

سندھ ینگ ڈاکٹرزجوائنٹ ایکشن کمیٹی کے صدر ڈاکٹر عمر سلطان نے جناح اسپتال کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وعدے کے مطابق 7 روز میں تنخواہوں کے اضافہ کا نوٹیفکیشن جاری کرنا تھا لیکن ابھی تک ایسا نہیں کیا گیا تاہم سمری وزیراعلی ہاؤس میں موجود ہے اس لیے دو دن کاوقت دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر دو دن میں بھی نوٹیفکیشن جاری نہ ہوا تو بدھ سے او پی ڈی اور آپریشن تھیٹر بند کر دیں گے۔  صرف ایمرجنسی چلے گی اور کچھ نہیں چلے گا۔ صوبے بھر میں بدھ سےتمام ڈاکٹرز ہڑتال پہ جائیں گے۔

ڈاکٹرعمرسلطان کا کہنا تھا کہ ہمیں شک ہے حکومت اپنے وعدے سے مکر جائے گی۔ سندھ بھر کے ڈاکٹروں کا ہم پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

لاہور شیخ زید اسپتال کے ینگ ڈاکٹرز بھی ایک بار پھر ناراض

دوسری جانب لاہور شیخ زید اسپتال کے ینگ ڈاکٹرز بھی ایک بار پھر ناراض ہوگئے ہیں اور او پی ڈی میں کام بند کردیا ہے اوراحتجاج کا دائرہ کار بڑھانے کے لیے پیر کو اجلاس بھی طلب کرلیا ہے۔

اس احتجاج کی وجہ بے نظیر بھٹو اسپتال میں ایم ایس کی معطلی اور شیخ زید اسپتال میں چار ڈاکٹرز کو برطرف کرنا بتائی جاتی ہے، ڈاکٹرز کی جانب سے او پی ڈی میں چار گھنٹے کی علامتی ہڑتال کی جارہی ہے۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی پنجاب ( وائی ڈی اے پی) کےصدر ڈاکٹر قاسم اعوان، صدر کا کہنا تھا کہ پیر کے روز پنجاب بھر کی اوپی ڈیز بند کرنے کا فیصلہ کریں گے۔

ینگ ڈاکٹرز نے الزام عائد کیا ہے کہ ٹرانسفر اور معطلی کی آڑ میں انتقامی کارروائیاں جاررہی ہیں، ایم ٹی آئی ایکٹ کسی صورت منظور نہیں، حکومت اسپتالوں کو نجکاری کی طرف لے جا رہی ہے، جو قابل قبول نہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز