امن سمجھوتے میں پاکستان کے مفاد کا خیال رکھا جائے گا،جنرل ووٹل

February 9, 2019

واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے کہا ہے کہ امریکہ کی جنوبی ایشیا سے متعلق حکمت عملی میں یہ بات شامل ہے کہ مستقبل میں افغانستان سے متعلق کسی بھی امن سمجھوتے کی صورت میں پاکستان کی مفاد کا خیال رکھا جائے گا۔

امریکی نشریاتی ادارے ’وائس آف امریکہ‘ کے مطابق امریکہ کے اعلیٰ فوجی کمانڈر کا یہ بیان افغان تنازع کے حل کے لیے پاکستان کے اہم کردارکے تناظر میں اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کا غمازہے۔

امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف نے رواں ہفتے سینیٹ کی مسلح افواج سے متعلق کمیٹی میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ ٹرمپ انتطامیہ کی طرف سے پاکستان کی سیکیورٹی امداد معطل کرنے کے باوجود اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان کچھ حد تک فوجی تعاون جاری رہا ہے۔

ایران کی ’تسنیم نیوز ایجنسی‘ کے مطابق سینیٹ کمیٹی میں جنرل ووٹل نے یہ انکشاف بھی کیا کہ پاکستان کے ساتھ  تعلقات میں امریکی محکمہ خارجہ میں موجود لوگوں کی حمایت بھی شامل ہے کیونکہ یہ افغانستان میں تنازع کے خاتمے کے لیے اسلام آباد کے ساتھ مل کر سفارتی حل کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

وی او اے کے مطابق سینیٹ کمیٹی کو جنرل ووٹل بتایا کہ امریکہ کے لیے پاکستان کی اہمیت صرف افغان تنازع کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ ان کے بقول ایک جوہری ملک ہونے کے ناطے پاکستان کا محل وقع ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں روس، چین بھارت اور ایران واقع ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ خطہ امریکی مفادات کے لیے اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تناظر میں پاکستان امریکہ کے لیے ایک اہم ملک ہے۔

وی او اے نے تجزیہ کاروں نے خطے کے تجزیہ کارون کے حوالے سے کہا ہے کہ گزشتہ برسوں میں امریکہ پاکستان کے بجائے بھارت کے زیادہ نزدیک ہو گیا تھا۔ وی او اے کے مطابق اس تناظر میں جنرل ووٹل کا بیان اہمیت کا حامل ہے۔

بین لاقوامی امور کے ماہر اور اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی کے پروفیسر ظفر جسپال نے جمعہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور روس کے ایک دوسرے کے قریب آنے کی وجہ سے امریکہ بھارت سے خوش نظر نہیں آتا ہے۔

پروفیسر نے بات چیت میں کہا کہ بھارت اپنی اسٹریٹجک خود مختاری برقرار رکھا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سے بھارت نے روس کے ساتھ ایس۔ 400 میزائل کا معاہدہ کیا ہے اورایران سے بھی تیل خرید رہا ہے تو اس پر امریکی کچھ زیادہ خوش نہیں ہیں۔

وی او اے سے بات کرتے ہوئے پروفیسر ظفر جسپال نے کہا کہ اب بظاہرامریکی جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے ساتھ اپنی پالیسی میں توازن رکھنے کے خواہاں ہیں۔

قائد اعظم یونیورسٹی کے پروفیسر ظفر جسپال کے مطابق امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنا پاکستان کے بھی مفاد میں ہے۔ وہ یقین رکھتے ہیں کہ افغان تنازع کے حل ہونے کے بعد اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات میں بہتری آجائے گی۔

وائس آف امریکہ کے مطابق سلامتی کے امور کے ایک ماہر امجد شعیب کا کہنا ہے افغان تنازع کے پرامن حل کے لیے امریکہ پاکستان کے کردار کو اہم خیال کرتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان، افغانستان میں امن و استحکام دیکھنا چاہتا ہے اور امریکہ بھی وہاں امن قائم کرنا چاہتا ہے تو پھر پاکستان اس کے لیے تعاون کرے گا کیونکہ افغانستان میں امن دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔

پاکستان نے امریکہ اور طالبان کے درمیان براہ راست بات چیت میں اہم  کردار ادا کیا ہے لیکن اس کے باوجود بعض اعلیٰ امریکی عہدے دار پاکستان سے مزید اقدامات کی توقع رکھتے ہیں۔

امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے بھی گزشتہ روز واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے اسی ضمن میں پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کیا ہے۔

ایرانی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق پاکستان، امریکہ سے اپنے تحفظات کا اظہار کر چکا ہے کہ جاری جنگ کے اختتام پر کابل کو خصوصاً بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز