اس نے شہروں کی سڑکیں، پل، فٹ پاتھ اور رش والے راستے عبور کیے
منتظمین نے فوری طور پر روبوٹ کو اٹھا کر اسے سیاہ پردہ سے چھپانے کی کوشش کی
اس کی ٹیکنالوجی ڈی جے آئی اوسمو پاکٹ 3 جیسی حرکت پذیر کیمرا سسٹم پر مبنی ہے
تعلیم، صحت، وکالت ہو یا تجارت آہستہ آہستہ ہرجگہ روبوٹ لے رہا ہے
” اوپٹیمس“ اس سال کے آخر تک فیکٹریوں میں کام کرنے کے قابل ہو جائے گا اور 2025کے آخر میں فروخت کیلیے تیار ہوسکتا ہے
روبوٹ ٹیچر طلبا کے مشکل سوالات کے جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
ٹیسلا روبوٹ نے انجینئر پر اس وقت حملہ کیا جب وہ دو ناکارہ روبوٹس کو ٹھیک کرنے میں مصروف تھا
تیز ترین روبوٹ کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں شامل کر لیا گیا۔
مریض کو لاحق مرگی کا مرض روایتی علاج سے ختم نہیں ہو رہا تھا۔
سانس لینے، پسین بہانے اور کانپنے والے روبوٹ کو اینڈی کا نام دیا گیا ہے۔
روبوٹ میں ایک موئنگ مسل ہے، جس کی مدد سے روبوٹ مختلف تاثرات کا اظہار کرتا ہے۔
مکہ مکرمہ کی انتظامیہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ حاصل کر رہی ہے۔
فرانس میں تیار کردہ اس روبوٹ کو بڈی کا نام دیا گیا ہے۔
یہ روایتی روبوٹ نہیں بلکہ جیتی جاگتی زندہ مشینیں ہیں، ماہرین
روبوٹ میں ڈرون کی طرح اڑنے کی صلاحیت بھی ہے














