شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی موت اور شدید بیماری سے متعلق غیر مصدقہ دعوؤں کے درمیان سرکاری میڈیا نے ان کی نئی تصاویر جاری کردی ہیں۔
کم جونگ اُن کی صحت سے متعلق افواہیں اس سے قبل 2020 میں بھی سامنے آئی تھیں تاہم تقریباً 3 ہفتے منظرعام سے دور رہنے کے بعد سرکاری میڈیا نے ان کی دوبارہ موجودگی کی اطلاع دی تھی۔
سرکاری میڈیا کے مطابق کم جونگ اُن نے 19 اکتوبر کو دارالحکومت پیانگ یانگ میں ملبوسات اور جوتوں کی نمائش کا دورہ کیا۔
خبر رساں ادارے یونہاپ کے مطابق، کورین سینٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے) کی جاری کردہ تصاویر میں کم جونگ اُن کے ساتھ ان کی اہلیہ ری سول جو اور بیٹی کم جو اے بھی موجود ہیں۔
سرکاری میڈیا کی رپورٹ میں دورے کی تاریخ 19 اکتوبر بتائی گئی ہے تاہم تصاویر سے ان کی طبی حالت کا آزادانہ طور پر تعین نہیں کیا جاسکتا۔
سوشل میڈیا پر موت اور کوما میں جانے کے دعوے
انٹرنیشنل بزنس ٹائمز یوکے کے مطابق، کم جونگ اُن کی موت اور طبی ایمرجنسی سے متعلق دعوے سوشل میڈیا صارف وانجن ژی کی پوسٹس سے سامنے آئے جنہوں نے خود بھی اپنے دعوؤں کو افواہوں کے طور پر پیش کیا۔
پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ کم جونگ اُن دماغ میں شدید خون بہنے کے باعث کوما میں ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ انہیں علاج کے لیے بیجنگ کے پیکنگ یونین میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی موت ہوگئی، جس کے بعد ان کی لاش خفیہ طور پر شمالی کوریا واپس لائی گئی۔
It is rumored that recently,Kim Jong-un, General Secretary of the Workers’ Party of Korea and Supreme Leader of North Korea, suffered a severe cerebral hemorrhage and fell into a coma. Although a team of medical experts from Peking Union Medical College Hospital was dispatched to North Korea to assist in his treatment, the poor medical conditions in North Korea forced Kim Jong-un to be transferred to Peking Union Medical College Hospital for emergency treatment. However, due to the severity of his condition and the fact that the optimal window for treatment had passed, Kim Jong-un succumbed to his injuries and died. His body has been secretly transported back to North Korea, and the news of his death is being kept under wraps.
— Wanjun Xie (@xie_wanjun) October 18, 2026
دی سن سمیت مختلف ذرائع ابلاغ نے ان دعوؤں کو انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی قیاس آرائیاں قرار دیا۔ تاہم ان دعوؤں کی تصدیق کے لیے کوئی آزاد طبی ثبوت، اسپتال کا ریکارڈ یا باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
جیو نیوز نے 19 اکتوبر کو رپورٹ کیا تھا کہ شمالی کوریا اور چین نے مبینہ طبی ایمرجنسی کی تصدیق نہیں کی۔
چین کے 9 ہزار فوجی بھیجنے کا دعویٰ
سوشل میڈیا پوسٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ چین نے کم جونگ اُن کی بیٹی کم جو اے کی مدد اور اقتدار کی منتقلی کو مستحکم کرنے کے لیے پیانگ یانگ میں 9 ہزار فوجی بھیجے ہیں۔ بعد ازاں اسی ذریعے نے دعویٰ کیا کہ اقتدار کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ کو منتقل ہوگیا ہے۔
چینی فوج کی شمالی تھیٹر کمانڈ کی تیاری بڑھانے، اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کرنے اور انہیں واپس بلانے کے دعوے بھی کیے گئے تاہم ان میں سے کسی بات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
دوسری جانب کے سی این اے کے مطابق، کم یو جونگ نے 19 اکتوبر کو ایک بیان میں کہا کہ شمالی کوریا جنوبی کوریا کی سرحد کے قریب اضافی حربی ہتھیاروں کی تعیناتی اور لاؤڈ اسپیکر نشریات دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اس بیان میں اقتدار کی منتقلی کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔
جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس رپورٹ میں کیا بتایا گیا؟
جنوبی کوریا کے قومی انٹیلی جنس ادارے (این آئی ایس) نے 30 ستمبر کو ارکان پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ کم جونگ اُن کا وزن تقریباً 140 کلوگرام ہے تاہم ان میں صحت کی خرابی کی کوئی نمایاں علامت نظر نہیں آئی۔
کے بی ایس کے مطابق، ادارے نے یہ بھی اندازہ ظاہر کیا تھا کہ شدید موٹاپے کے باعث کم جونگ اُن کو امراضِ قلب کا زیادہ خطرہ ہے۔ یہ جائزہ حالیہ افواہوں سے3 ہفتے سے بھی کم عرصہ قبل پیش کیا گیا تھا اور اس سے بعد کی طبی صورتحال کی تصدیق نہیں ہوتی۔
کم جو اے کی بڑھتی ہوئی اہمیت، جانشینی کی قیاس آرائیاں
جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس کے مطابق، کم جو اے کو مستقبل میں اپنے والد کی جانشین بنانے کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے تاہم شمالی کوریا نے انہیں باضابطہ طور پر جانشین نامزد نہیں کیا۔
کم جو اے پہلی مرتبہ نومبر 2022 میں میزائل تجربے کے موقع پر منظرعام پر آئی تھیں اور 2025 میں اپنے والد کے ساتھ چین بھی گئی تھیں۔ اگر وہ مستقبل میں اقتدار سنبھالتی ہیں تو شمالی کوریا کی پہلی خاتون سربراہ ہوں گی۔
