برسلز: بیلجیئم کے جنگلات کی آگ پر قابو پانے کے لیے یورپی یونین نے 3 ہیلی کاپٹر اور 2 واٹر بمبار طیارے بھیج دیئے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مشرقی بیلجیم کے علاقے ہائی فینز میں گزشتہ روز لگنے والی آگ نے اب تک تقریباً ایک ہزار 600 ہیکٹر رقبہ اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے باعث یہ ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی جنگلاتی آگ قرار دی جا رہی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق آگ نے 2011 میں لگنے والی جنگلات کی آگ کا ریکارڈ توڑ دیا ہے، جس میں تقریباً ایک ہزار 400 ہیکٹر رقبہ متاثر ہوا تھا۔
مقامی فائر فائٹرز، کسان اور فوج آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، تاہم خشک اور گرم موسم کے باعث آگ تیزی سے پھیل رہی ہے۔
حکام نے بیلجیئم کے گاؤں سور بروڈٹ کے رہائشیوں کو ممکنہ انخلا کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کر دی، جبکہ علاقے میں بچوں کے سمر کیمپ کو بھی خالی کرا دیا گیا ہے۔
یورپی یونین کی کمشنر ہادجا لحبیب کے مطابق بیلجیئم کی درخواست پر جمہوریہ چیک، سویڈن اور نیدرلینڈز سے امدادی طیارے اور ہیلی کاپٹر بھیجے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ حکومت برطانیہ کے مطابق ملک کے تین چوتھائی حصے کو خشک سالی کا سامنا ہے۔ جس کی وجہ سے زراعت، ماحولیات، جنگلی حیات اور فراہمی آب کے سلسلے میں مشکلات درپیش ہیں۔
برطانیہ میں خشک سالی کے باعث مختلف مقامات پر آگ لگنے کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ جبکہ انتظامیہ کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کھلے مقامات پر سگریٹ پینے اور آگ لگانے سے گریز کریں۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی صدر نے مہنگائی کا ذمہ دار امریکی پابندیوں کو قرار دے دیا
برطانیہ کے جنگلات میں لگنے والی آگ جرمنی کی سرحد تک پہنچ گئی۔ جس کے بعد جرمنی نے ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے سرحد سے متصل علاقوں کو خالی کرا لیا۔
