چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف 4 کیسز بہت زیادہ تشویشناک ہیں، پرویز خٹک

ptip

چیئرمین پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین پرویز خٹک نے کہا ہے کہ لگ رہاہےپی ٹی آئی کوکریمنل پارٹی ڈکلیئرکر کےراستوں کو بند کردیاجائےگا. 

پشاور میں پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین کے سربراہ وائس چیئرمین محمود خان کے ہمراہ صحافیوں سے ملاقات کی ہے۔ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے 60 فیصد ایم این ایز اور ایم پی ایز کو میں نے پارٹی میں شامل کرایاتھا۔

ہماری پارٹی کامنشورآخری مراحل میں ہے،لمباچوڑانہیں ہوگا، تمام سیاسی جماعتوں نےفوج کوخودسیاست میں مداخلت کااختیاردیا، میں وزیر دفاع تھااس لیےفوج کےساتھ تعلق اچھا تھا۔

انہوںنے کہا کہ  پی ٹی آئی نےمخالفین کوخاموش کرنےکیلئےلوگوں کوبھرتی کیاہواہے، پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیمیں اب مجھے گالیاں دیتی ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی18ویں ترمیم کیخلاف تھے۔

سابق وزیراعلی خیبر پختونخوا نے کہا ہے کہ اپنے دور حکومت میں اصلاحات کا آغاز کیا جسے محمود خان نے آگے بڑھایا۔ بلین ٹری سونامی اور بی آر ٹی جیسے منصوبوں کو تنقید کے بعد بھی پورا کیا، نیب نے بلایا اور ٹیکنیکل چیزوں پر بات کی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے ضمانتیں خارج ہونے پر بڑا قدم اٹھا لیا

انہوں نے کہا ہے کہ میرے خیال میں عام انتخابات اگلے سال فروری میں ہو ں گے، لوگ انتخابات سے متعلق عدالتوں میں چلے گئے تو مزید تاخیر ہوسکتی ہے۔

پرویز خٹک نے کا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف 4 کیسز بہت زیادہ تشویشناک ہیں، توشہ خانہ سے خریدی گئی گھڑی کو کلیئر نہ کرنا چیئر مین پی ٹی آئی کیخلاف بڑا کیس ہے، سائفر کو جلسوں میں دکھانا چیئرمین پی ٹی آئی کی دوسری بڑی غلطی تھی، 190ملین پاؤنڈ کا کیس چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف تیسرا بڑا کیس ہے، 9مئی کے واقعات پی ٹی آئی کیخلاف چوتھا بڑا کیس ہے۔

پرویزخٹک سیاست کریں لیکن عزت کے دائرے میں رہیں،علی محمد خان

پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرین کے سربرہ کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں کابینہ کے اجلاس میں بند لفافہ دیکھا کر دستخط لیے گئے۔

 


متعلقہ خبریں