پاکستان بزنس فورم نے مختلف محکموں سے بجلی کے مفت یونٹس کو ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا


پاکستان بزنس فورم نے وفاقی حکومت سے تمام پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے عملے سمیت سرکاری افسران کو مفت یا رعایتی بجلی کی سہولت بند کرنے کی درخواست کر دی۔

اس اقدام سے قومی خزانے کو سالانہ 10 ارب روپے کی بچت ہوگی، پی بی ایف کے چیف آرگنائزر اور مرکزی نائب صدر چوہدری احمد جواد نے کہا کہ شاہی خاندان کی طرح زندگی گزارنے والوں کے دن اب ختم ہونے چاہئیں۔

اگر پارلیمنٹیرین، تاجر اور عوام اپنی جیب سے بجلی کے بل ادا کرتے ہیں تو معاشرے کا مخصوص طبقہ مفت کی سہولت سے کیوں لطف اندوز ہوتا ہے جب ملک پہلے ہی معاشی بحران کا شکار ہے۔

اسی طرح پی بی ایف نے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 7.50 روپے فی یونٹ کے نمایاں اضافے کومسترد کر دیا جس سے متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے صارفین کو شدید دھچکا لگا۔

بجلی کے بلوں میں اضافہ ستمبر میں لگ کر آئیگا، وفاقی وزیر توانائی

پی بی ایف کی نائب صدر جہاں آرا وٹو کا کہنا تھا کہ ٹیرف میں اس اضافے کا اثر صرف متوسط طبقے تک محدود نہیں ہے، یہ کمرشل صارفین، اور ہر ماہ 400 یونٹ یا اس سے زیادہ استعمال کرنے والے صنعتی صارفین کو بھی متاثر کرتا ہے۔

کمرشل ٹیرف میں یہ اضافہ 35.38 روپے سے 41.35 روپے فی یونٹ تک ہو گا، جب کہ صنعتی صارفین کا ٹیرف (B1، B2، B3، اور B4) فی یونٹ 32-38 روپے تک بڑھ جائے گا، جس میں FPA، QTA، ٹیکس شامل نہیں۔

جہاں آرا وٹو کا کہنا تھا کہ بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافے کے بعد صنعتی پیداوار کی لاگت میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے جس سے مہنگائی مزید ہوگی اور ملک کے غریب عوام کو مزید نقصان پہنچے گا، اس بھاری ٹیرف کے اضافہ کے بعد کاروبار اور صنعتوں کو چلانا مشکل ہو گیا ہے۔

پاکستان بزنس فورم حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ٹیرف آئی ایم ایف ایس بی اے کی سفارشات پر بڑھ رہا ہے لیکن آئی ایم ایف نے حکومت پر اپنا فیصلہ کیوں نافذ نہیں کیا کہ 6 ماہ کے عرصے میں ڈسکوز میں لائن لاسز اور چوری کی شرح کو صفر فیصد تک لایا جائے اور یہ مشکل کام نہیں اگر ریاست کی رٹ کو صحیح طریقے سے نافذ کیا جائے۔


متعلقہ خبریں