’عمران خان کو وزیراعظم رہنے کا کوئی حق نہیں‘


اسلام آباد:  پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما پلوشہ خان نے کہاکہ قومی اسمبلی میں وزیراعظم کی تقریر انتہائی مایوس کن تھی۔ وہ ٹیپو سلطان کی باتیں کرتے ہیں لیکن جب فیصلہ قائد حزب اختلاف سے پوچھتے ہیں کہ کیا کرنا چاہیے۔

ہم نیوز کے پروگرام’ ندیم ملک لائیو‘ میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ  اگر بھارت کلسٹر بم گرا رہا ہے تو کیا آپ لاشیں اٹھاتے رہیں گے، 70 سال سے فوجی شہید ہورہے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ میں کیا کروں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی وزیراعظم کو بھارتی اقدام کا پتہ تھا تو ٹرمپ ملاقات کے بعد شادیانے کیوں بجائے جا رہے تھے۔

پلوشہ خان نے کہا کہ اگر وزیراعظم کو بھارتی اقدام کا علم تھا کہ تو پھر اس سے بڑی غلطی نہیں ہوسکتی، عمران خان ساری دنیا کو فون کر رہے ہیں ٹرمپ کو کیوں نہیں کرتے۔

پلوشہ خان نے کہا کہ وزیراعظم کو رہنے کا کوئی حق نہیں اگر وہ مسئلہ کشمیر پر سب جانتے تھے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر نے کہا کہ وزیراعظم ٹیپو سلطان کی طرح باتیں کرتے ہیں اور بہادر شاہ ظفر کی طرح عمل کرتے ہیں۔

ہم نیوز کے پروگرام’ندیم ملک  لائیو‘ میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو بتانا چاہیے کہ امریکی صدر کے ساتھ  کیا بات چیت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی اقدام کے بارے میں ہماری حکومت پہلے سے آگاہ تھی تو شادیانے کیوں بجائے جا رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ٹرمپ سے ملاقات کے شادیانے بجا رہے تھے اور اب کوئی پی ٹی آئی رکن امریکی صدر کے بیان کو دہرانا نہیں چاہتا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہر لحاظ سے معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے اور جو ہونا تھا ہوگیا اب پاکستان کو سوچنا چاہیے کہ کیا کر سکتا ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر نے کہا کہ ہمیں 70 سال بعد بحث کا رخ تبدیل کرنا ہوگا اور پاکستان کو حقیقت پسند ہو کر سوچنا چاہیے۔

بھارت نے کشیمر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اب پاکستان کے پاس یا آپشنز ہیں؟ اس سوال کے جواب میں  کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سید فخر امان نے کہا کہ پاکستان سیکیورٹی کونسل کی شق 48 اور 49 پاکستانی موقف کی بنیاد ہے۔

پاکستان کشمیر پربھارت کے ساتھ تین جنگیں لڑچکا ہے لیکن برہان وانی کی شہادت سے اس تحریک کو عروج ملا۔ اس وقت کوئی بھی کشمیری خوفزدہ نہیں اور نہ موت سے ڈرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگ مسئلے کا آخری حل ہوتا لیکن پاکستان کے پاس فی الحال مذاکرات کا راستہ کھلا ہے۔

سید فخر امام نے کہا کہ عالمی طاقتیں پاکستان کے ساتھ نہیں حالات کے ساتھ کھڑی ہوں گی۔ ہمیں اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھنی چاہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان تو کیا کوئی بھی پاکستانی کشمیر کا سودا نہیں کر سکتا، جو ہونا تھا ہو چکا اب پاکستان کو چاہیے کہ عالمی برادی کو ساتھ لے کر چلے۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ او آئی سی نے پاکستانی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا فیصلہ بالکل یکطرفہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عمران خان عالمی رہنماؤں سے رابطے کر رہے ہیں اور دنیا اس وقت حالات کا جائزہ لے رہی ہے۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ مودی کے اقدام پر بھارتی حزب اختلاف بھی احتجاج کر رہی ہے کیوں کہ وہاں کی حکومت نے شملہ معاہدے اور اقوام متحدہ کے قوانین کو دفن کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھارت کے اقدام کو کبھی نہیں مانے گا اور ہم اپنی قانونی پوزیشن کے مطابق لڑیں گے۔


متعلقہ خبریں