سعودی اور اماراتی امداد پر کوئی شرائط نہیں،وزیر اعظم



لاہور:وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سابق پنجاب حکومت ہمارے مزدوروں کے فنڈز ہڑپ کر گئی ،جو فنڈز جنوبی پنجاب کے لئے رکھے گئے تھے ان میں بھی کرپشن کی گئی۔جب ایک معاشرہ میں انصاف ہوتا ہے تو لوگ خود کو ملک کا شہری سمجھتے ہیں۔پنجاب گورنمنٹ نے فیصلہ کیا ہے تمام فنڈز کی منصفانہ تقسیم ہو گی،سابق حکومت نے پنجاب کا آدھا بجٹ لاہور پر لگا دیا گیا۔میں وزیراعلی کو اس سوچ پر مبارک باد دیتا ہوں۔

عمران خان نے کہا کہ میں نے بہت نتقید سنی کی کہ کس کو وزیراعلی پنجاب بنا دیا ہے،مجھے ان سو دنوں میں کسی نے نہیں کہا کہ عثمان بزدار کمیشن لے رہا ہے،یا کک بیکس لے رہا ہے۔عثمان بزدار ایک ایماندار انسان ہے۔ہم بھٹے بند کریں گے،اور اس کی جگہ نئی ٹیکنالوجی لائیں گے،تاکہ شہر میں آلودگی کم کی جا سکے،

پنجاب میں100روزہ کارکردگی سے متعلق تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں بھارت کے خلاف ڈھاکہ میں میچ کھیلنے گیا ،تب بنگلہ دیش بن چکا تھا ،ہم نے وہ میچ جیتا تو لوگوں نے اس طرح خوشی کا اظہار کیاکہ مجھے لگا جیسے لاہور میں میچ جیتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ معاشرہ جب انصاف دیتا ہے تو لوگ معاشرے کا حصہ بننا چاہتے ہیں ،بنگلہ دیش ہم سے کیوں الگ ہوا ؟وہاں حقوق سے شروع ہو کر بات علیحدگی پر ختم ہوئی ،بلوچستان کے لوگوں میں بھی احساس محرومی پیدا ہوا اور پھر وہاں انتشار شروع ہو گیا ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ دور حکومت میں حکمرانوں نے قوم کا پیسہ لوٹا اور ان کے بچے با ہر پڑھ رہے ان کے کاروبار باہر اور وہ لوگوں کو کہ رہے کہ پاکستان میں کاروبار کریں لوگ ان پر کیسے یقین کریں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھاکہ صنعتوں کو گیس اور بجلی سستی ملے گی، اگرصنعتوں کو ری بیٹ نہیں دیں گے تو ان کا دیوالیہ نکل جائے گا، گورننس سسٹم ٹھیک کردیا توملک ٹیک آف کر جائے گا۔

عمران خان نے کہا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے جو امداد دی ہے اس پر کوئی شرط عائد نہیں، امداد کے بدلے ہم نے کوئی جنگ نہیں لڑنی، ہم امن کے داعی ہیں اور امن کے لیے جو کردارادا کرسکے کریں گے

انہوں نے کہا کہ ہم نے تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع کیا او قبضہ مافیا سے زمینیں خالی کروائیں ان کا مقصد صرف عام عوام کو فائدہ پہنچانا ہے۔جب کرپشن ہوتی ہے تو اس کی قیمت عام عوام اٹھاتی ہے ان پر مہنگائی طوفان آتا ہے۔جب کرپشن کرتے ہیں تو سارے معاشرے کو تباہ کرتے ہیں،جو ملک خوشحال ہے وہاں کرپشن نہیں ہے،چین نے چار سو وزیروں کو کرپشن پر پکڑا پے ،دیکھ لیں کس طرح ان کا ملک ترقی کر رہا ہے،

انہوں نے کہا کہ ہم نے کسی پر کوئی کیس نہیں کیا جو کیس ہوئے وہ ہماری حکومت آنے سے پہلے ہوئے تھے،ہماری جمہوریت کا مذاق اڑ رہا ہے،کہ جس پر کرپشن کا کیس ہے اسے ہی اکاونٹس پبلک کمیٹی کا سربراہ بنا دیا۔میں نے اپنی پارٹی کے لوگوں کو کہ دیا کہ اپوزیشن جو کہتی ہے وہ مان لیں،انہوں نے جو کہا وہ ہم نے کیا،ہم صرف ایک چیز سے پیچھے نہیں ہٹے گے وہ احتساب ہے۔کیونکہ جب تک ہم کرپٹ لوگوں پر ہاتھ نہ ڈالا تو ہمارے بچوں کا مستقبل اس ملک کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔

وزیراعظم  نے کہا کہ پولیس ریفارم بہت اہم ہے،پولیس کو سیاسی اثرورسوخ ختم کرنا ہے،اور اسے ایک پروفیشنل ادارہ بنانا ہے۔وزیر اعلی پنجاب ایک سیل بنائیں اور ان کے پاس جو شکایات آئیں وہ آجی پولیس کے پاس بھجوائیں۔

ہم کسان کے لئے کوشش کر رہے کہ ان کی پیداوار بڑھانا چاہتے ہیں اور ہم اس کے لئے اقدام کر رہے ہیں۔کم زمین پر زیادہ اناج اگانے کے لئے نئی ٹیکنالوجی متعرف کریں گے۔میں انڈوں اور ریلو کٹوں کی بات نہیں کروں گا،میں بات کرتا ہوں تو لوگ مذاق اڑاتے ہیں جب کہ بیل گیٹس نے یہ بات کی تو سب نے تعریف کی،انڈوں کے کاروبار سے دیہی خواتین کو فائدہ ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ قائداعظم نے سچ کہا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو برابر نہیں سمجھا جائے گا،وہاں اقلیتوں کو برابر کے حقوق حاصل نہیں ۔نصیردین شاہ کا انٹرویو دیکھا جو اپنے بچوں کے تحفظ کے لئے پریشان تھے،اللہ کا شکر ہے ہمیں ایک آزاد ملک ملا،ہم پاکستان میں اقلیتوں کو برابرکے حقوق دیں گے اور یہی ہمارے نبی ﷺ کی تعلیمات ہیں۔ہم مودی کو دیکھائیں گے کہ اقلیتوں کو کیسے رکھتے ہیں۔

تمام وزراٗ کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں پاس ایک سنہری موقع ہے کہ آپ لوگوں کی خدمت کریں،اگر آپ دیانتداری سے کام کریں اور اپنی وزارت کو لیڈ کریں تو آپ ایک اچھا لیڈر بن کر ابھریں گے۔یاد رکھیں ہماری چالیس فیصد عوام غریب ہے سرکاری خرچ کرنے سے پہلے ان کا خیال رکھیں۔

 


متعلقہ خبریں