بلوچستان: صوبے بھر میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ

تعلیمی ایمرجنسی

بلوچستان حکومت کی طرف سے صوبے بھر میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کردیا گیا۔

صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق بلوچستان کے تمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز، ہیڈ ماسٹرز اور سینئر اساتذہ اسٹیشنز پر رہیں گے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی پیشگی اطلاع کے بغیر کوئی بھی ڈیوٹی اسٹیشن نہیں چھوڑے گا۔

بلوچستان حکومت کے مطابق ہر ضلع کے ای ڈی او روزانہ 3 اسکولوں کا دورہ کر کے جامع رپورٹ پیش کریں گے۔

گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرنے کا وقت گزر گیا، وزیر اعلیٰ بلوچستان

خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے چیف سیکرٹری کو صوبے میں 2 ہزار غیر حاضر اساتذہ کی برطرفی کا حکم دیا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے  ہدایت کی تھی کہ محکمہ تعلیم میں کوئی مداخلت نہیں ہوگی، میرٹ پر ضلعی تعلیمی افسران لگائیں۔

وزیراعلیٰ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ بلوچستان میں فی بچے  پر ماہانہ 5 ہزار 625  روپے خرچ کیا جارہا ہے۔ فی بچے  پر سالانہ 72 ہزار  روپے کے لگ بھگ خرچ  آتا ہے، اتنے اخراجات میں تو ہر بچہ ملک کے اعلیٰ ترین نجی تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کرسکتا ہے۔


متعلقہ خبریں