پنجاب میں خطرناک نمونیا مزید 18بچوں کی زندگیاں نگل گیا

نمونیا

ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں خطرناک نمونیا مزید 18بچوں کی زندگیاں نگل گیا۔

پنجاب بھر میں گزشتہ روز نمونیا کے 869جب کہ صرف لاہور میں 177نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔پنجاب میں رواں سال نمونیا سے 258اموات اور 14ہزار 530کیسز رپورٹ جب کہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں رواں سال نمونیا سے 53اموات اور 2ہزار 490کیسزرپورٹ ہوئے۔

محکمہ صحت پنجاب نے 9سیر پس کے استعمال پر پابندی لگادی

پنجاب میں نمونیا سے اموات کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، گزشتہ 4 روز کے درمیان 60سے زائد بچے جان کی بازی ہار گئے ہیں، 24جنوری کو 14بچے، 25جنوری کو 12، 26جنوری کو 13اور 27جنوری 7اور 28جنوری کو نمونیا سے مزید 18بچوں کی اموات رپورٹ ہوئیں۔

ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ پنجاب میں نمونیا کے بڑھتے ہوئے کیسز کی بڑی وجہ رواں سال موسمِ سرما میں فضائی آلودگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی اسموگ بھی ہے۔

نمونیا پھیپھڑوں کے اندر انفیکشن کو کہا جاتا ہے، نمونیا کے زیادہ تر کیس وائرس کی وجہ سے ہوتے ہں اور یہ نزلہ و زکام کی علامات کے بعد ظاہر ہو سکتا ہے۔

نمونیا ہلکا یا سنگین ہو سکتا ہے، عام طور پر 5سال یا اس سے کم عمر کے بچوں میں زیادہ عام ہوتا ہے۔ماہرین صحت کے مطابق نمونیا کی ہلکی علامات بھی جان لیوا ہو سکتی ہیں، اس بیماری کی علامات میں بلغم اور کھانسی، بخار، بہت زیادہ پسینہ آنا یا سردی لگنا، معمول کی سرگرمیاں کرنے کے دوران سانس پھولنا، سانس لیتے وقت یا کھانسی کے وقت سینے میں درد محسوس ہونا، تھکاوٹ کا احساس، بھوک میں کمی، متلی محسوس ہونا، سر درد ہونا۔

وفاقی حکومت کا سب سے بڑا ذریعہ آمدن کونسا ٹیکس؟ تفصیلات سامنے آگئیں

دیگر علامات آپکی عمر اور صحت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں جیسا کہ شیر خوار یا نومولود بچوں میں بعض اوقات کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں لیکن بعض اوقات انہیں متلی ہو سکتی ہے۔

توانائی کی کمی ہو سکتی ہے یا پینے یا کھانے میں پریشانی ہو سکتی ہے۔5 سال سے کم عمر کے بچوں کو سانس لینے میں دشواری ہو سکتی ہے۔


متعلقہ خبریں