غزہ کی جنگ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، سعودی عرب


قاہرہ: سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ غزہ کی جنگ علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے گھر کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہیں۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے مصر میں امن سربراہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین میں ہونے والے المناک واقعات فوری جنگ بندی کے اقدامات کے متقاضی ہیں۔ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے گھر کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہیں۔

انہوں نے غزہ کے لیے محفوظ انسانی راہداریوں کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرنے کا پابند بنائے۔

شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ یہ سربراہ اجلاس اس بحران کا حل تلاش کرنے کے لیے عالمی برادری کی طرف سے فیصلہ کن کارروائی میں حصہ ڈالے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہو کر ایک اسٹریٹجک آپشن کے طور پر ان کے بنیادی حقوق کے حصول کی حمایت جاری رکھیں گے۔ ہم سلامتی کونسل کی جانب سے بحران پر اب تک کوئی مؤقف اختیار کرنے میں ناکامی پر سخت مایوس ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ میں جارحیت رکنے تک فوجیوں کی رہائی کی بات نہیں کریں گے، حماس

سعودی وزیر خارجہ عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل کی جانب سے محاصرہ ختم کرنے اور فوجی کارروائیوں کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالے اور بے گناہ جانوں کا مزید ضیاع بند کرائے۔ غزہ کی جنگ علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ 7 اکتوبر کو حماس اور اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والی جنگ میں اب تک 4 ہزار 385 فلسطینی شہری شہید اور 13 ہزار 600 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ شہید ہونے والوں میں ایک ہزار 756 بچے اور 976 خواتین بھی شامل ہیں۔


متعلقہ خبریں