بیگم کلثوم نواز کی رسم قل ادا، اہم شخصیات کی شرکت


لاہور: سابق خاتون اول  بیگم کلثوم نواز کی رسم قل جاتی امرا میں ادا کی گئی جس میں اہم سیاسی رہنماؤں سمیت شریف فیملی کے قریبی رشتہ داروں نے بھی شرکت کی۔

قل خوانی کا آغاز تلاوت قرآن پاک اور نعت خوانی سے ہوا جس میں سابق وزیر اعظم نوازشریف، سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز،  شریف نوازشریف کی والدہ اور مریم نواز سمیت خاندان کی دیگر خواتین نے  بھی شرکت کی۔

کلثوم نواز کی رسم قل میں خواتین کےلئے علیحدہ انتظام کیا گیا تھا۔ رسم قل میں فضا درود و سلام سے گونج اٹھی رقت آمیز مناظر بھی دیکھنے میں آئے۔

قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری اورچئیرمین بلاول بھٹو زرداری بھی جاتی امرا پہنچے اور لواحقین سے تعزیت کی۔

بلاول اور سابق صدر آصف زرداری کی جاتی امرا آمد کے موقع پر فرحت اللہ بابر، قمر زمان کائرہ، شیری رحمن اور راجہ پرویز اشرف بھی ہمراہ تھے۔

 آصف زرادری اور بلاول بھٹو نے کلثوم نواز کے انتقال پر گہرے دکھ اورافسوس کا اظہار کیا۔ تعزیت کے لئے ہونے والے مختصرملاقات کے دوران آصف زردارئ اورنوازشریف میں کلثوم نواز کئ جد وجہد اورکردارپرگفتگو ہوئی۔

اس موقع پرآصف زرداری نے کہا کہ بلا شبہ بیگم کلثوم نواز نڈراور بہادرعورت تھیں۔ جمہوریت اورملک کے لئے ان کی جدوجہد کو پورا ملک یاد کر رہا ہے اور کرتا رہے گا۔

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ بیگم کلثوم نواز کا انتقال شریف خاندان کے لیے بہت بڑا صدمہ ہے، ہم شریف خاندان اورمسلم لیگ ن کے دکھ میں برابرکے شریک ہیں۔

نوازشریف نے کہا کہ مجھے سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی ہے کہ آخری وقت علیل اہلیہ کے ساتھ نہیں گزارسکا، انہوں نے پیپلز پارٹی کی قیادت کا شکریہ ادا کیا کہ اس تکلیف میں ان کا ساتھ دیا۔

نواز شریف نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا وفد نماز جنازہ میں بھی شریک ہوا اور آج بھی پورے خاندان کے ہمراہ چل کر آئے، جس کے لیے شکر گزار ہوں۔

 سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی ہمشیرہ صنم بھٹو نے بھی گزشتہ روز لندن میں نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور ان سے والدہ کے انتقال پر تعزیت کی تھی۔ صنم بھٹو نے اپنی گفتگو میں مرحومہ کلثوم نواز کو عظیم خاتون قرار دیا تھا۔

اس سے پہلے پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین اوروزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے جاتی امرا میں سابق وزیراعظم نوازشریف سے الگ الگ ملاقات کی اوران سے بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر تعزیت کی۔

چودھری شجاعت کے ساتھ چودھری مونس الہی، چودھری راسخ الہی، چودھری شافع حسین اورچودھری سالک حسین بھی تھے۔ ق لیگ کے سربراہ نے نواز شریف سے ان کی اہیلہ کے انتقال پراظہارافسوس کیا اورمرحومہ کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال بھی جاتی امرا پہنچے اور بیگم کلثوم نواز کے لواحقین سے تعزیت کی۔ انہوں نے سابق وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کے دوران کلثوم نواز کی وفات پر فاتحہ خوانی بھی کی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بیگم کلثوم نواز کے ایصال ثواب کے لیے رسم قل میں صرف خاندان کے افراد ہی شریک ہوں گے۔

ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب کے مطابق شہباز شریف نے عوام سے درخواست کی ہے کہ مرحومہ بیگم کلثوم نواز کے لیے دعاؤں اور قرآن خوانی کا اہتمام کیا جائے۔ 

بیگم کلثوم نواز کی تدفین میں شرکت کے لیے آنے والے قائدین اور ہزاروں افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قوم کی دعاؤں نے دکھ  کی اس گھڑی میں پورے شریف خاندان کی ڈھارس بندھائی۔

ان کا کہنا تھا کہ قوم کا پیار اور غمگساری زندگی کا اہم سرمایہ ہے۔ سفر کی دشواری کے باوجود ہزاروں افراد کے پہنچنے سے ہمیں حوصلہ ملا۔


متعلقہ خبریں