عاطف میاں اقتصادی مشاورتی کونسل سے الگ



اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان  کی جانب سے حال ہی میں تشکیل دیے گئے اقتصادی مشاورتی کونسل کے رکن عاطف میاں سے استعفی لے لیا گیا ہے۔

عاطف میاں کی اقتصادی کونسل میں شمولیت کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے ان پر اعتراضات کیے گئے، حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ انہیں عہدہ سے ہٹایا جائے۔ 

تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید نے معاملہ کے متعلق جاری کردہ پیغام میں کہا ہے کہ عاطف میاں کو حکومت کی جانب سے اقتصادی مشاورتی کونسل سے استعفی دینے کو کہا گیا جس پر وہ مستعفی ہونے پر راضی ہوگئے۔

سینیٹر فیصل جاوید نے ٹویٹ کیا کہ جلد ہی ان کے متبادل کا اعلان کر دیا  جائے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات  فواد چودھری نے بھی اپنے پیغام میں عاطف میاں کی تقرری واپس لینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ عاطف میاں کی اقتصادی مشاورتی کمیٹی سے نامزدگی واپس لے لی جائے،حکومت علماء اور تمام معاشرتی طبقات کو ساتھ لے کر ہی آگے بڑھنا چاہتی ہے اور اگر ایک نامزدگی سے مختلف تاثر پیدا ہوتا ہے تو یہ مناسب نہیں۔

عاطف میاں کو  اقتصادی مشاورتی کونسل کی رکنیت سے ہٹانے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ عمران خان کا آئیڈیل ریاست مدینہ ہے، اور وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کے اراکین عاشقان رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ختم نبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور حال ہی میں گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر حکومت نے جو کامیابی حاصل کی وہ بھی اسی نسبت کا اظہار ہے۔

قبل ازیں ہم نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے فیصل جاوید نے کہا تھا کہ عاطف میاں کے متبادل کی تجویز وزارت خزانہ پیش کرے گی، توقع ہے کہ ان کی جانب سے چند روز میں نام سامنے آ جائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ عاطف میاں کا معاملہ بہت زیادہ حساس تھا اورگزشتہ کچھ دنوں کے اندر اس پر بہت زیادہ ردعمل آیا۔   

تحریک انصاف رہنما سے پوچھا گیا کہ وزیراعظم معاملہ کے متعلق علماء سے ملاقات کر رہے ہیں؟ جس پر انہوں نے کہا کہ وہ ایسی کسی ملاقات سے آگاہ نہیں ہیں۔

عاطف میاں کی تقرری پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہیا گیا تھا کہ اعلیٰ حکومتی عہدوں پر قادیانیوں کا تقرر آئین پاکستان کی روح کے منافی ہے۔


متعلقہ خبریں