تائیوان نے اعلان کیا ہے کہ وہ چین کے بڑھتے ہوئے عسکری دباؤ کے پیش نظر اپنے دفاعی اخراجات میں 40 ارب ڈالر کا اضافہ کرے گا۔
صدر لائے چنگ تے نے کہا کہ یہ بجٹ اس عزم کی علامت ہے کہ تائیوان اپنی آزادی اور جمہوری اقدار کے دفاع میں کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔
چین تائیوان کو اپنی سرزمین قرار دیتا ہے اور گزشتہ 5 برسوں میں فوجی و سیاسی دباؤ بڑھاتا رہا ہے، جسے تائیوان سختی سے مسترد کرتا ہے۔
واشنگٹن کی جانب سے بھی تائیوان پر دفاعی بجٹ بڑھانے کا دباؤ موجود ہے۔
صدر لائے چنگ نے کہا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ جارحیت کے سامنے جھکاؤ غلامی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔
صدارتی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ لڑائی جمہوری تائیوان کے دفاع اور چین کے تابع ہونے سے انکار کی ہے، نہ کہ محض نظریاتی اختلاف یا آزادی و الحاق کی بحث۔
امریکا کے نمائندہ برائے تائیوان ریمونڈ گرین نے اس فیصلے کو تائیوان کی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کیلئے اہم پیش رفت قرار دیا۔
تائیوان اپنی فوج کو جدید بنانے اور غیرروایتی عسکری حکمت عملی اپنانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ نسبتاً کمزور فوج کے باوجود چین کے مقابلے میں اپنی دفاعی صلاحیت بہتر رکھی جا سکے۔
بیجنگ نے اس بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تائیوان ’’بیرونی قوتوں‘‘ کے اشاروں پر چل رہا ہے اور اپنی قوم کے وسائل کو عوامی فلاح کے بجائے اسلحے پر برباد کر رہا ہے۔
امریکا کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کے دوران اب تک صرف ایک بڑا اسلحہ پیکج منظور ہوا ہے، جس کی مالیت 330 ملین ڈالر ہے۔
صدر لائے چنگ نے کہا کہ تائیوان کے امریکا کے ساتھ تعلقات “چٹان کی طرح مضبوط” ہیں اور امریکی صدر کے حالیہ بیانات نے اس موقف کو مزید تقویت دی ہے کہ ’’تائیوان، تائیوان ہے‘‘۔
تائیوان کا مؤقف برقرار ہے کہ اس کا مستقبل صرف اس کے عوام کا فیصلہ ہوگا، جبکہ بیجنگ نے لائے چنگ کی مذاکراتی پیشکشوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’’علیحدگی پسند‘‘ قرار دیا ہے۔
