پیپلز پارٹی کامستحق افراد کو 300 یونٹ تک کے سولر سسٹم دینے کا اعلان

سولر پینل solar pannel

پاکستان پیپلز پارٹی نے مستحق عوام کو 300 یونٹ تک کے سولر سسٹم دینے کا اعلان کر دیا۔

پیپلزپارٹی رہنما خورشید شاہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہم 300 یونٹ تک کے سولر سسٹم مستحق عوام کو دیں گےلیکن اس میں ابھی کچھ وقت درکار ہے ۔ یادر ہے کہ پیپلز پارٹی نے انتخابی منشور میں حکومت بننے کے بعد 300 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو بجلی مفت فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ملک میں 29 روزے اورعید الفطر میڈل ایسٹ کیساتھ ہو گی، ماہرین فلکیات

جبکہ ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے الیکشن سے قبل اس بات کا علان کیا تھا کہ ہم حکومت میں آنے کے بعد 200 یونٹس استعمال کرنے پرصارفین کو بجلی مفت فراہم کریں گے۔

چند روز قبل وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی جانب سے صوبے بھر میں 50 ہزار سولر سسٹم دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت سولر ہوم سلوشن کا جائزہ اجلاس ہوا تھا جس میں سیکرٹری انرجی نے بریفنگ دی اور بتایا گیا کہ سسٹم میں اعلی سولر پلیٹ ، انورٹر، بیٹری اور دیگر سٹم شامل ہوگا۔ پہلے مرحلے میں پروگرام کیلئے 12.6 ارب روپے مختص کئے جائیں گے۔

دوسری جانب یورپ سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں سولر پینلز اتنے سستے ہو گئے ہیں کہ انہیں نیدرلینڈز اور جرمنی میں باغات کی باڑ بنانے کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔

عالمی میڈیا کے مطابق یورپی ممالک سے سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی کچھ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگوں نے سولر پینل گھر کی چھتوں پر لگانے کی بجائے باغات کی باڑ بنانے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔

خبر رساں ادارے کے مطابق عام طور پر سولر پینلز کا فائدہ تو چھت پر لگانے سے ہی ہوتا ہے مگر یورپ کے ان ممالک میں پینلز انسٹال کرنے کی لیبر اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ لوگ سولر پینلز کو فینسنگ کیلئے استعمال کرنا مناسب سمجھ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سولر پینلز کی قیمتیں کم ہونے کی وجہ عالمی مارکیٹ میں چینی کمپنیوں کی جانب سے سولر پینل کی بڑھتی ہوئی پیداوار ہے۔ ضرورت سے زیادہ سولر پینلز کی سپلائی کے باعث مارکیٹ پر چین کی گرفت حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے جس کا امریکہ اور یورپ کے مینوفیکچررز مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔

سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں کیا سہولیات میسر ہیں؟ رپورٹ سامنے آ گئی

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اندازے کے مطابق عالمی سطح پر سولر پینل کی سپلائی اس سال کے آخر تک 1,100 گیگا واٹ یا موجودہ طلب سے تین گنا زیادہ ہو جائے گی۔

ایجنسی نے مزید کہا کہ 2023 میں سپاٹ مارکیٹ پر قیمتیں پہلے ہی نصف تک گر چکی ہیں اور 2028 تک ان میں مزید 40 فیصد کمی کا امکان ہے۔

جہاں دنیا بھر میں سولر پینلز سستے ہوئے ہیں وہیں پاکستان میں بھی ان کی قیمتوں میں واضع کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ گذشتہ برس بھی شمسی توانائی سے بجلی بنانے والے پینلز کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی۔

مارکیٹ میں اس وقت سات سے 15 کلو واٹ سسٹم کی قیمت دو لاکھ روپے تک گری ہے۔ سولر پینلز کی خرید و فروخت کا کام کرنے والے کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ مختلف عوامل کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے اور ابھی کچھ وقت تک قیمتوں میں مزید کمی ہوگی۔


متعلقہ خبریں